امریکہ کی نائب وزیر خارجہ ونڈی شرمن نے کہا ہے کہ روس نے عالمی منڈی کے لئے خوراک سے لدے 94 بحری جہازوں کی بحیرہ روم تک رسائی کو روک دیا ہے۔
شرمن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا ہے کہ "یوکرین میں جنگ اور عالمی غذائی تحفظ پر اثرات کا واحد ذمہ دار روس ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "جنگ کے آغاز کے بعد سے روس کے زیرِ محاصرہ شہر ماریوپول میں بھوک کی وجہ سے شہری اموات کا خطرہ لاحق ہے۔ پانچ ہفتہ قبل دنیا کو اناج برآمد کرنے والا ماریوپول آج روس کے صدر ولادی میر پوتن کی جنگ کی وجہ سے بھوک سے مر رہا ہے”۔
شرمن نے کہا ہے کہ گندم کی عالمی برآمدات کا 30 فیصد، مکئی کی برآمدات کا 20 فیصد اور سورج مکھی کے تیل کا 75 فیصد بحیرہ اسود کے علاقے سے آتا ہے۔ پوتن کی جنگ عالمی غذائی تحفظ کے لئے خطرہ ہے۔
انہوں نے روس کے، بحیرہ اسود میں مال سے لدے 3 سِول بحری جہازوں پر، بمباری کرنے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ روسی بحری بیڑہ، یوکرین کی بندرگاہوں تک رسائی کو روک کر، اناج کی برآمدات کا راستہ کاٹ رہا ہے۔ روسی بحری بیڑے نے عالمی منڈی کے لئے خوراک سے لدے 94 بحری جہازوں کی بحیرہ روم تک رسائی کو روک دیا ہے۔
برطانیہ کی اقوام متحدہ کے لئے مستقل نمائندہ باربرہ ووڈ ورڈ نے کہا ہے کہ "روس اپنی جنگی اشتہاء کے ساتھ دنیا کے دستر خوان سے خوراک چھین رہا ہے”۔
فرانس کے سفیر نکولس ڈی ریوئیر نے روس کو دنیا بھر میں قحط کے خطرے میں اضافہ کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
تاہم روس اور چین نے مغرب کی پابندیوں اور اقتصادی بندشوں کو خوراک کی عالمی منڈی کے اتار چڑھاو کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے کہا ہے کہ یوکرین اناج کی برآمدات کی وجہ سے روٹی کی ٹوکری کی حیثیت رکھتا تھا لیکن اس وقت جنگ کی وجہ سے روٹی لینے والوں کی قطار میں کھڑا ہے۔
بیسلے نے متنبہ کیا ہے کہ یہ جنگ صرف یوکرین کو ہی متاثر نہیں کرے گی بلکہ ایسے عالمی نتائج کا سبب بنے گی جن کی دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نظیر نہیں ملتی۔
