ایک اہم شخصیت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پیغام بھجوایا گیا ہے، جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے اپوزیشن سے این آر او مانگ لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ موجودہ صورتحال میں عمران خان نے محفوظ راستہ مانگا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے عمران خان نے پیشکش کی ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے، اسمبلی تحلیل کر دوں گا، عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن متفق نہ ہوئی تو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم شخصیت کے پیغام پر اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں غور کیا اور اپوزیشن کی اکثریت نے عمران خان پر اعتماد نہ کرنے کا کہہ دیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے پاس نمبر پورے ہیں، اسپیکر سے جلد ووٹنگ کا مطالبہ کیا جائے، جتنی جلدی عدم اعتماد پر کارروائی مکمل ہو گی ہمیں فائدہ ہو گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کے لیے واحد فیس سیونگ "استعفی” تجویز کیا ہے۔
صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم خان نے اپوزیشن سے محفوظ راستہ (این آر او) مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اھم شخصیت نے عمران خان اور شہبازشریف کو پیغام پہنچایا۔ پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو پیشکش کی کہ عدم اعتماد واپس لیں؛ اسمبلی تحلیل کر دونگا۔
اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں انکشاف!!!
وزیراعظم خان نے اپوزیشن سے محفوظ راستہ (این آر او) مانگا ہے!!
“اھم شخصیت” نے عمران خان اور شہبازشریف کو پیغام پہنچایا!!
عدم اعتماد واپس لیں؛ اسمبلی تحلیل کر دونگا؛ عمران خان کی پیشکش!
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) March 31, 2022
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ‘کپتان اب متحدہ اپوزیشن سے NRO مانگ رہا ہے- اللہ کی شان جو کل تک رعونت سے کہتا تھا میں انہیں NRO نہیں دونگا اب اپنے لئے NRO کی بھیک مانگ رہا ہے۔’
کپتان اب متحدہ اپوزیشن سے NRO مانگ رہا ہے- اللہ کی شان جو کل تک رعونت سے کہتا تھا میں انہیں NRO نہیں دونگا اب اپنے لئے NRO کی بھیک مانگ رہا ہے-
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) March 31, 2022
حنا پرویز بٹ نے لکھا کہ آج نیازی NROکیلئے ہمارے پاؤں پڑا ہے مگر اس نااہل شخص کو NRO نہیں دیں گے۔۔۔
آج نیازی NROکیلئے ہمارے پاؤں پڑا ہے مگر اس نااہل شخص کو NRO نہیں دیں گے۔۔۔
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) March 31, 2022
