کراچی: کیلنڈر سال 21 میں اسلامی بینکاری صنعت نے نئی بلندیوں کو چھو لیا اور اس کے اثاثے 5 ٹریلین روپے کے نشان کو عبور کرکے تاریخ کے بلند ترین اضافے 1,308 ارب روپے کے ساتھ 5,577 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ڈپازٹس 822 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ 4,211 ارب روپے تک جاپہنچے۔ یہ بات آج بینک دولت پاکستان نے دسمبر 2021 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے اپنے اسلامک بینکنگ بلیٹن میں بتائی۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اسلامی بینکاری صنعت کے اثاثوں میں کیلنڈر سال 21 میں 30.6 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ ڈپازٹس اسی عرصے میں 24.2 فیصد بڑھے۔
اس مضبوط نمو کے نتیجے میں دسمبر 2021 کے خاتمے پر اسلامی بینکاری اثاثوں اور ڈپازٹس کا حصہ مجموعی بینکاری صنعت میں بالترتیب 18.6 فیصد اور 19.4 فیصد بڑھ گیا۔ اسلامی بینکاری صنعت کے اثاثوں میں اضافہ نجی اور سرکاری شعبے دونوں کی مالکاری اور شریعت سے ہم آہنگ تمسکات میں سرمایہ کاری سے ہوا۔ 2021 کے دوران اسلامی بینکاری صنعت کی جانب سے کی جانے والی مالکاری میں 716 ارب روپے (38.1 فیصد) کا اضافہ درج کیا گیا، جو ایک سال کے دوران اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ بھی ہے۔ مزید برآں، 2021 کے دوران حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ملکی ریاستی صکوک کے باعث اسلامی بینکاری صنعت کی سرمایہ کاری میں 591 ارب روپے (46.9 فیصد) کا اضافہ ہوا۔
فنڈنگ کے لحاظ سے، 2021 کے دوران اسلامی بینکاری صنعت کے کرنٹ ڈپازٹس اور سیونگ ڈپازٹس میں بالترتیب 441 ارب روپے اور 277 ارب روپے کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ڈپازٹس میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 2021 کے دوران 500 نئی اسلامی بینکاری برانچوں کے اضافے سے ملک میں اسلامی بینکاری خدمات کی دستیابی میں اضافہ ہوگیا۔ اب 125 اضلاع میں برانچوں کی کل تعداد 3956 ہے، جو ملک بھر میں موجود کمرشل بینکوں کی کل برانچوں کی تعداد کا تقریبا 25 فیصد ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسلامی بینکاری صنعت کووڈ 19 جیسی عالمی وبا کے تناظر میں مختلف اقدامات پر عملدرآمد کرنے اور سستے مکانات اور چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں اور ڈجیٹائزیشن کے لیے قرضوں کے فروغ کی غرض سے دیگر متعدد اقدامات میں بڑا کردار ادا کررہی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے کووڈ 19 وبا کے دوران عارضی معاشی نومالکاری سہولت (ٹرف) رعایتی قرضے کی سہولت – متعارف کرائی، جس کا مقصد نئے کاروبار اور وسعت اور / یا متوازن، جدت طرازی اور تبدیلی (بی ایم آر) کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، اس اقدام کو کاروباری برادری میں خاصی پذیرائی ملی۔ اسلامی بینکاری اداروں نے ٹرف کے تحت قرضوں کی تقسیم میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا، ان قرضوں کی تقسیم میں اِن کا حصہ نمایاں یعنی 38 فیصد رہا۔ اسی طرح میرا پاکستان میرا گھر کے نام سے سستے مکانات کے فروغ کے لیے قرضے کی سہولت کے حوالے سے قرضوں کی مجموعی تقسیم میں 49 فیصد اور منظور شدہ مجموعی قرضوں میں 58 فیصد حصہ اسلامی بینکاری اداروں کا رہا۔روشن ڈجیٹل اکاونٹ کے حوالے سے اسلامک بینک اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں قابلِ ذکر سرمایہ کاری کی ترغیب دلانے میں کامیاب رہے، ان کے تحت موصولہ رقوم میں اسلامی بینکاری اداروں کا حصہ 46 فیصد ہے۔
اسلامی بینکاری کی صنعت کی توسیع کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں اسٹیٹ بینک کے قائدانہ کردار کی بدولت گذشتہ چند برسوں کے دوران اسلامی بینکاری میں مضبوط نمو دیکھنے میں آئی ہے۔ ملک میں مالی شمولیت کا فروغ اسٹیٹ بینک کی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے۔ 2021 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے اہم اقدامات یہ ہیں: (i)اسلامی بینکاری کی صنعت کے لیے تیسرے پانچ سالہ تزویراتی منصوبے2021-25 کا اجرا، روڈ میپ اور عمومی اہداف کی فراہمی، (ii) شریعت سے ہم آہنگ اسٹینڈنگ سہولت اور بازار زر کے سودے (او ایم او) متعارف کرانا، (iii) حکومت پاکستان کے ملکی اجارہ صکوک کی نئی اجرائیوں اور بعد میں مختلف اثاثوں کے ساتھ ان کی ری اوپننگ کے ٹرانزیکشن ڈھانچے کی تیاری، (iv) آخری سہارا برائے قرض کے لیے شریعت سے ہم آہنگ ضوابط جاری کرنا، (v) شریعت کی عدم تعمیل پر خطرے کے انتظام کی ہدایات جاری کرنا، (vi) شرعی نظم و نسق کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنانا، اور (vii) عوام کی آگاہی بڑھانے اور متعلقہ فریقوں کی استعداد کاری کے لیے متعدد اقدامات۔
اسٹیٹ بینک مختلف بین الاقوامی فورموں پر اسلامی بینکاری کو عالمی سطح فروغ دینے کے لیے فعال اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ فی الوقت، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر2022 کے لیے ممتاز ادارے اسلامی مالی خدمات بورڈ (آئی ایف ایس بی) کی کونسل اور جنرل اسمبلی کے چیئرپرسن ہیں۔ اسٹیٹ بینک مئی2022 میں اگلے اسلامی مالی خدمات بورڈ (آئی ایف ایس بی) کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ آئی ایف ایس بی معیار کے تعین کا ایک عالمی ادارہ ہے جو اسلامی مالی خدمات کی صنعت کی مضبوطی اور استحکام کو فروغ دیتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کو ریڈ منی گروپ ملائشیا سے وابستہ اسلامک فنانس نیوز (آئی ایف این) نے دنیا بھر میں اسلامی مالیات کو فروغ دینے کے حوالے سے2021 کا بہترین مرکزی بینک بھی قرار دیا ہے۔ قبل ازیں، اسٹیٹ بینک کو یہ مقبول ایوارڈ سال2015، 2017، 2018 اور2020 میں دیا گیا تھا۔
