لاہور(نمائندہ جسارت+آن لائن)گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا استعفا منظور کر لیا۔وزیراعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد پنجاب کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔گورنر پنجاب نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج 2 اپریل بروز ہفتہ دن 11بجے طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں میں نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ وفاق میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کی ممکنہ کامیابی کے بعد اپوزیشن جماعتیں پنجاب میں بھی تبدیلی کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں اور اس سلسلے میں ن لیگ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی بھی خاصی متحرک دکھائی دیتی ہے، بتایا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے اس مقصد کے لیے پارٹی رہنمائوں پر مشتمل ایک 5رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم احمد محمود، قمر الزمان کائرہ ، ندیم افضل چن ،علی حیدر گیلانی اور سید حسن مرتضیٰ شامل ہیں مذکورہ کمیٹی لاہور میں مستقل ایم کے ساتھ ساتھ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے اپوزیشن کے مشرکہ امیدوار کے لیے مشاورت کرے گی۔ ادھر پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب (ن) لیگ سے ہوگا،دیگر گروپوں سے بات ہوئی ہے ،تمام گروپ عوام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوکاڑہ سے آزاد رکن صوبائی اسمبلی جگنو محسن کی ن لیگ میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اویس لغاری،عطا اللہ تارڑ، منشا اللہ بٹ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ جو غلاظت عمران نیازی نے پھیلائی ہے سب کے سامنے ہے ،مجھے خوشی ہے تمام سیاسی قیادت ایک ہے ،عوامی میدان لگے گا اور نتیجہ عوام کے سامنے آئے گا،نہ پنجاب کی گیم ہے نہ ہی عدم اعتماد کی گیم ہے یہاں عوام کی گیم ہے جو بھوک سے پریشان ہیں ایسے میں نمبر گیم کی کیا بات ہے ،اپنے ساتھ بیٹھی جماعتوں کو قائل کریں گے کہ انتخابات جلدی ہوں۔علاوہ ازیں پنجاب میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ن مسلم لیگ نے اپنے تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو بغیر اجازت شہر سے باہر جانے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ واضح رہے کہ ن مسلم لیگ کی قیادت نے جمعرات کو اپنے تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو لاہور طلب کر لیا تھا ۔
