لاہور( نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی، سیاسی قومی امور قائمہ کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے ملکی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی، پارلیمانی بحرانوں کا علاج ازوقت انتخابات ہی ہیں لیکن عمران خان نے غیر جمہوری، غیر آئینی اور بچگانہ اقدامات سے سیاسی جمہوری بحران کو گھمبیر آئینی بحران کے بلیک ہول میں دھکیل دیا ہے. عدم اعتماد تحریک آئینی جمہوری طریقہ کار ہے. اگر کوئی بیرونی سازش کارفرما ہے تو عمران خان نے غیر آئینی اقدام سے بیرونی ایجنڈا کی سہولت کاری کی ہے. بنیادی طور پر عمران خان کا اختلاف رائے کا سامنا کرنے کا مزاج نہیں. اسی وجہ سے شدت، انتقام اور غیر جمہوری ماحول پیدا ہوگیا ہے.لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت آئین سے ماورا اقدامات کا ماحول پیدا ہوگیا ہے، اس کا واحد حل یہ ہے کہ سپریم کورٹ بلاتاخیر عدم اعتماد تحریک کو آئین کے مطابق مکمل کرائے اور وزیراعظم عمران خان کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا جائے. موجودہ اقدامات سے نئے انتخابات کا انعقاد ناممکن ہوگا، انارکی اور فساد پھیلے گا. عدم اعتماد تحریک کا آئینی عمل مکمل ہونے کے بعد تمام جماعتیں قبل از وقت انتجا ات کا فیصلہ کریں، پھر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں. پنجاب اسمبلی میں وزیراعلٰی کے چناؤ سے بھی حکومت فرار ہوگئی. گورنر پنجاب کی برطرفی کا عمل بھی سراسر بے ہودہ اور آمرانہ ہے. آئین سے ماورا اقدامات سے بچاؤ کا راستہ اب صرف اور صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے، تاکہ آئین کی روح کے مطابق تمام اقدامات ہوں نہ کہ شکست خوردہ ہیجانی کیفیت میں مبتلا کچن کیبنٹ کے ہاتھ میں پوری قوم کی تقدیر دے دی جائے۔
