سرینگر،نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسزکی ریاستی دہشتگردی میں مزید 2کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔کشمیری میڈیا کے مطابق قابض بھارتی فوج نے 2کشمیری نوجوانوں کوپلواما میں فائرنگ کرکے شہید کیا۔ بھارتی فورسزنے شہید نوجوانوں کی لاشیں بھی قبضے میں لے لیں۔رمضان کے مقدس مہینے میں بھی بھارتی فورسزنے پلواما اورقریبی علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کومشکلات کا سامنا ہے۔نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران متعدد نوجوانوں کوگرفتارکرکے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا۔بھارتی فوجی گھروں میں گھس گئے اورخواتین سے بدتمیزی کی اورہراساں کیا۔علاقے میں انٹرنیٹ اورموبائل سروس بھی بند ہے۔دوسری جانب بھارت کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما عبدالصمد انقلابی کوبانڈی پورہ میں ان کے گھر سے گرفتارکرلیا۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں فوج کشی کی مذمت پر ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ کو مودی سرکار نے بیرون ملک جانے سے روک دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ آکار پٹیل کو بنگلور ائرپورٹ پر بیرون ملک جانے کے لیے طیارے میں بیٹھنے سے عین موقع پر روک دیا گیا۔بھارت کے تفتیشی ادارے سی بی آئی نے آکار پٹیل کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے ان کے خلاف مقدمہ دائر ہونے پر اْن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے اس لیے اب وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ پر مقدمہ سے متعلق زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں تاہم آکار پٹیل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خاف آواز اْٹھاتے آئے ہیں اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروار سلوک کے خلاف بھی سب سے توانا آواز سمجھے جاتے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب مودی سرکار کی اقلیتوں کے خلاف متعصب پالیسیوں پر آواز اْٹھانے والوں کا گلا دبانے کی کوشش کی گئی ہو اس سے قبل ایک مسلم خاتون صحافی پر بھی بی جے پی کے غنڈوں نے حملہ کیا تھا۔
