اسلام آباد:پاکستان میںعلاقائی ممالک کے مقابلے مزدوری کی لاگت انتہائی کم،چین پاکستان اجرت کا فرق مروجہ ڈالر کی برابری کی شرح سے دو گنا زیادہ ،چینی کمپنیوں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی پیشکش،گوادر پورٹ کے زریعے وسط ایشیائی ریاستوں تک تجارت کا آغاز۔
ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان متعدد صنعتوں میں بھاری سرمایہ کاری کو راغب کر سکتا ہے جہاں علاقائی ممالک کے مقابلے مزدوری کی لاگت انتہائی کم ہے، عالمی مسابقت کے زریعے پاکستان اپنی برآمدات کو فروغ دے سکتا ہے جس سے اقتصادی استحکام میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں 2018 سے 2021 تک خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم از کم اجرت کی شرح کا اشاریہ سب سے کم تھا۔چین پاکستان اجرت کی شرح کا فرق مروجہ ڈالر کی برابری کی شرح سے دو گنا زیادہ تھا۔
2018 میں چینی لیبر کی لاگت 2.1 گنا تھی اور یہ پاکستانی لیبر کے مقابلے میں تقریبا دوگنا مہنگی ہے، پاکستان میں 60 فیصد لیبر فورس کی عمر 40 سال سے کم ہے جو ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ گھریلو معیشت اور متوسط طبقے کے لیے زیادہ قابل استعمال آمدنی سمیت پاکستان کو کچھ مصنوعات میں تقابلی فائدہ حاصل ہے جن کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق جوتے، کپڑے، ویڈیو اور ریڈیو کا سامان، ٹرنک اور کیسز، سوتی دھاگے، لوہا، زرعی پراسیسنگ ، رنگنے کا سامان، پرنٹنگ اور شیشے کے سامان ایسے چند ذیلی شعبے ہیں جو مستقبل میں برآمدات کو بڑھانے میں مدد کر سکتے ہیں، چین اس حقیقت کو سمجھ رہا ہے کہ اسے زیادہ لیبروالی اشیا کی پیداوار میں مسابقتی فائدہ نہیں ہے اس لیے وہ مینوفیکچرنگ کو کم یونٹ مزدوری کی لاگت والے ممالک میں منتقل کرنے، یا کم آمدنی والے ممالک میں مینوفیکچرنگ کو آوٹ سورس کرنے پر غور کر رہا ہے جن کے لیے ہنر مند محنت، تکنیکی معلومات اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان، جس نے چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ بھی کیا ہے، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چینی کمپنیوں کو خصوصی اقتصادی زونز کی طرف راغب کر رہا ہے، اس کے علاوہ مقامی کاروباری گھرانے چینی فرموں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کر رہے ہیں۔
