English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی اسمبلی :پنجاب اسمبلی میں تشدد کے خلاف قرارداد مذمت منظور۔ قاسم سوری عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل مستعفی

Alkhidmat

اسلام آباد(خبرایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی نے پنجاب اسمبلی میں تشدد کے خلاف قرارداد مذمت منظور کرلی۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل ہی مستعفی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کو پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔ پینل آف چیئر سردار ایاز صادق نے ان سے حلف لیا۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر ہونے والے تشدد کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی اور ذمے داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین بلاول زرداری نے راجا پرویز اشرف کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے نئے اسپیکر ایوان کو بہترین طریقے سے چلائیں گے۔نو منتخب اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے پہلے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کیا گیا اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایسی بدترین مثال نہیں ملتی‘ بطور رکن اسمبلی اس واقعے سے سر شرم سے جھک گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے راکین نے ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کیا، حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے‘سادہ الفاظ میں یہ تشدد اورغنڈہ گردی فسطائیت ہے‘ عمران خان کی مایوسی اور تشدد پر اکسانا معاشرے کو توڑ رہا ہے‘ عمران خان خود جمہوریت پرحملہ آور ہیں۔ ملک میں لوڈشیڈنگ جاری ہے‘ ملک میں 35 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے‘ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش کافی ہے‘ سی پیک کے نتیجے پر لگنے والے پاور پلانٹس کوئلے اور ہوا سے چلنے والے لگے ہیں، ایک پاور پلانٹ 2019ء میں چلنا تھا جو 1250 میگا واٹ کا ہے، اربوں روپے کا یہ منصوبہ بند پڑا ہے اور بجلی نہیں پیدا کرسکا‘سابق حکومت کی اس منصوبے پر کوئی توجہ نہیں تھی‘ جو نئے پلانٹس لگے گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں‘ اسی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ ہے، اسی لیے سابق حکومت کو کرپٹ اور نااہل حکومت کہتے تھے۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ اور چند دنوں میں اس ایوان کے ساتھ مذاق کیا گیا‘ہمارے آئین کے ساتھ کھیل کھیلا گیا‘ہم نے سلیکٹڈ وزیراعظم کو گرادیا ہے‘ اب ہم متحدہ حکومت ہیں‘عوام کو امید کی کرن نظر آرہی ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ جو ادارے متنازع رہے وہ اپنے آئینی کردارکی طرف بڑھ رہے ہیں‘ کوئی طاقت نہیں جو پاکستان کی ترقی کو روک سکے، آئین کا دفاع نہیں کریں گے تو خود کو پاکستانی نہیں کہلا پائیں گے۔ اس موقع پر بلاول نے بلقیس ایدھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد ایوان میں پیش کی جو منظور کرلی گئی۔ شازیہ مری نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا، میڈیا کوریج پر پابندیاں ہٹانے کا خیر مقدم کرتی ہوں۔ جمعیت علمائے اسلام کے رکن مولانا اسعد محمود نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پی ٹی آئی استعفے دے چکی ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص پوری پارٹی کے استعفے قبول کرلے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب! پی ٹی آئی والوں کو بلا کر استعفوں سے متعلق پوچھیں‘وزیراعظم ہاؤس کی جو بھینسیں بیچی گئی ہیں اس کا ریکارڈ ایوان میں پیش کیا جائے‘ توشہ خانہ کے تحفوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں۔ ایاز صادق نے کہا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بطور قائم مقام اسپیکر غیر قانونی طور پر پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کیے، تمام ارکان کو فرداً فرداً تصدیق کے لیے بلانا چاہیے تھا، قواعد کے لحاظ سے استعفا رکن کی اپنی لکھائی میں ہونا چاہیے‘ تحریک انصاف کے کئی ارکان نے مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ ہم استعفا نہیں دینا چاہتے ہم پر بیجا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے ڈی سیل کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ استعفے ڈی سیل کرکے مجھے دیں تاکہ میں قانون اور آئین کے مطابق انہیں دیکھ سکوں۔نومنتخب اسپیکر نے پارلیمنٹ کا میڈیا سینٹر کھولنے کا حکم دے دیا۔دریں اثنا انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی تحریک صرف 2 ارکان کی موجودگی میں منظور کرلی گئی۔ تحریک میں کہا گیا ہے کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے قوانین میں بہتری کی ضرورت ہے، کمیٹی3 ماہ میں اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی۔ قبل ازیں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل ہی استعفا دے دیا۔ قاسم سوری کا استعفا سیکرٹری قومی اسمبلی کے دفترکو موصول ہوگیا ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ قاسم سوری کے استعفے کے بعد تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

Alkhidmat

 

Alkhidmat

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے