English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیلی پولیس نے یہودیوں کی عبادت کیلئے نمازیوں کو مسجد اقصیٰ سے بیدخل کردیا،مسلسل چوتھے روز بھی تشدد

القمر
بیت المقدس: مسجد اقصیٰ کے احاطے میں قابض اسرائیلی سرحدی پولیس کے اہلکار گشت کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس/ویٹی کن سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کا موقع دینے کے لیے مسلمان نمازیوں کو جبری طور پر باہر نکال دیا۔انتہا پسند یہودی اسرائیلی پولیس کی سرپرستی میں مسلمانوں کے قبلہ اول میں گھس گئے، اس امتیازی سلوک پر احتجاج کرنے والے نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 18کو حراست میں لے لیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پولیس نیمسلسل چوتھے روز بھی مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں جبری طور پر بیدخل کرکے صحن خالی کرالیا۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد یہودیوں کا ایک گروپ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور اس جگہ عبادت کرنی چاہی جو صرف مسلمانوں کے لیے مختص ہے اس پر نمازیوں نے احتجاج کیا تو پولیس بیچ میں آگئی۔اسرائیلی پولیس نے یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دیدی اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ سے جبری طور پر بیدخل کردیا۔اس سے پہلے جمعہ کو بھی صہیونی فورسز نے مسجد میں توڑ پھوڑ کی تھی اور150 سے زائد نمازیوں کو زخمی اور 400 کو حراست میں لے لیا تھا۔مسجد اقصیٰ کے کسٹوڈین اردن اور اسرائیلی حکومت کے درمیان رمضان سے قبل مذاکرات ہوئے تھے اور ماہ مقدس میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کی آمد کے امکان پر خصوصی انتظامات اور ضابطہ اخلاق پر اتفاق کیا گیا تھاتاہم اسرائیل کی جانب سے اس ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔دوسری جانب عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو کسی کی مذہبی آزادی سلب کرنے کا حق نہیں۔ویٹی کن سٹی میں ایسٹر کی سب سے بڑی تقریب سے اپنے خطاب میں انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت سے نہ روکا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے