ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔
آج ہم آپ کے ساتھ صحت کےجس مسئلے اور اس کے گھریلو علاج کے بارے میں بات کریں گے وہ ہے ‘ دماغی دھند’۔
دماغی دھند کو تعلم اور ادراکی اعمال کو محدود کرنے والی صورتحال کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انسانوں کو تعلم، ادراک اور آگاہی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور یہ کیفیت متعدد پیچیدہ بیماروں کی ہمراہی کرتی ہے۔ دماغی دھند اصل میں کوئی طبّی بیماری نہیں ہے صرف پیچیدہ بیماریوں کے بعد ظاہر ہونے والی علامات میں سے ایک ہے۔ ان علامات کو درج ذیل شکل میں ترتیب دیا جا سکتا ہے:
بھلکڑ پن، توجہ میں کمی اور منتشر خیالی
افکار کو جمع کرنے اور موزوں الفاظ کی تلاش میں دشواری
چیزوں کو کہیں رکھ کے بھول جانا، مسلسل اشیاء گم کرنا، روزمرّہ کے معمولی کاموں تک کو گڈ مڈ کر دینے جیسے مسائل کا سامنا ہونا۔
فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کرنا، کوئی کام شروع کرنے میں یا شروع کئے ہوئے کام کو مکمل کرنے میں مشکل محسوس کرنا۔
نیند کے مسائل کا سامنا ہونا۔
تقریباً ہر صبح کا آغاز تھکن ، پژمردگی اور افسردگی سے کرنا۔
اندیشوں، پریشان حالی اور منفی افکار کی زیادتی۔
غیر ضروری غصے کے دورے اور ضرورت سے زیادہ ردعمل کا اظہار کرنا۔
بتدریج بڑھتی ہوئی بےحالی کا جسم و روح پر حاوی ہو جانا۔
دن بھر غنودگی ، الجھن اور شعور میں اتار چڑھاو۔
دماغی دھند کا علاج کیسے کیا جانا چاہیے؟
- دماغی دھند کے علاج میں سب سے پہلے جس پہلو پر توجہ دی جانی چاہیے وہ خوراک ہے۔ 3 ماہ تک خوراک پروگرام سے گلوٹن ، چینی ، دودھ اور دودھ کی مصنوعات کو خارج کر دینا چاہیے۔ خوراک میں تازہ سبزیوں اور پھلوں کو، زیتون کے تیل ، مکھن اور کھوپرے کے تیل جیسے مفید تیلوں ، پروٹین والی غذاوں ، خشک میوہ جات اور خمیر والی غذاوں کو شامل کرنا چاہیے۔
- اگر آپ کو پیچیدہ ذہنی دباو کا سامنا ہے تو اس میں کمی کے لئے اور زیادہ بہتر نیند کے لئے معاون چیزوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جلد سونے کے لئے میلاٹونین سے مدد لی جا سکتی ہے۔ والرین کاذب، ملیسا، مرجان کی جڑ، عنبر اور خشخاش جیسی جڑی بوٹیوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔
- جسمانی حرکت ، کھُلی ہوا میں 20 منٹ کی مختصر مدت کے لئے چہل قدمی دماغی دھند کے علاج کے لئے مفید سمجھی جاتی ہے۔ چھٹی کے دن کھُلی ہوا میں، سمندر کے کنارےیا کسی بھی قدرتی ماحول میں وقت گزارنا بہتر ثابت ہوگا۔
دماغی دھند کے خلاف جدوجہد:
- سانس کی ورزش کریں
- چہل قدمی یا پھر ہلکی پھلکی ورزش کریں۔
- معدنیات سے مالامال غذاوں اور مشروبات کا استعمال کریں۔
- زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔
- دن بھر میں کافی مقدار میں پروٹین لیں۔
- شکر کے استعمال کو کم کر دیں۔
- نیند پر توجہ دیں۔
- چائے اور کافی کے استعمال کو کم کر دیں۔ دوپہر 2 بجے کے بعد چائے یا کافی کا استعمال نہ کریں۔
- میلاٹونین سے بھرپور غذاوں کا استعمال کریں مثلاچیری، زیتون، زیتون کا تیل، انار، بروکولی، خشک میوہ جات اور بیج وغیرہ۔
- ٹرپٹوفین والی غذاوں یعنی حیواناتی پروٹین، خشک پھلیوں، چنوں اور دالوں کا استعمال کریں۔
- انتڑیوں کی صحت پر توجہ دیں، ہڈیوں کی یخنی کا استعمال کریں۔
- ٹماٹر، چائے، کیلے، مصالحہ جات، دہی، پنیر اور نارنجی کا استعمال کم کر دیں۔
- اَن سیٹریٹڈ فیٹ اور اومیگا 3 کے استعمال میں اضافہ کر دیں مثلاً مچھلی، مچھلی کا تیل، اخروٹ، قلفے کا ساگ اور السی وغیرہ۔
- گلوٹن کا استعمال بند کر دیں۔
- اضافی مادّوں والی غذائیں استعمال نہ کریں۔
- بہت زیادہ گیس کرنے والی غذاوں مثلاً اروی، لوبیا اور سیب جیسی غذاوں کا استعمال محدود کر دیں۔
- ریفائن کاربوہائیڈریٹ اور ریفائن چینی کو زندگی سے خارج کردیں۔
- جسم میں سیروٹنین کی مقدار میں اضافہ کرنے والی غذاوں، ٹرپٹوفین، پروٹین اور وٹامین بی والی غذاوں مثلاً مچھلی، انڈے اور کھمبیوں کا استعمال بڑھا دیں۔
- بی 12 اور بی 6 وٹامن والی اور فولک ایسڈ والی غذائیں کھائیں۔
- وٹامن سی والی غذاوں مثلاً مرچ، سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کریں۔
- کھانوں میں آیوڈین مِلا نمک استعمال کریں۔
- سگریٹ نوشی بند کر دیں۔
- ورزش کو معمول بنا لیں
- یوگا اور میڈیٹیشن کریں
- ذہنی دباو سے نبٹنا سیکھیں۔
کیا دماغی دھند چھٹ سکتی ہے؟
دماغی دھند کو ہٹانے کے لئے ضروری ہے کہ
- ذہنی دباو پر قابو پائیں۔
- ڈپریشن کا شکار ہیں تو علاج کروائیں۔
- کم خوابی کو دور کریں۔
- ہارمون کے مسائل ہوں تو اس کا علاج کروائیں۔
- انتڑیوں کے فلورا کو توازن میں رکھیں اور
- زیادہ سے زیادہ اومیگا 3 لینے کی کوشش کریں۔
