کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز ظہیر عباس ، انتخاب عالم اور معین خان نے ملک میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کی حمایت کی ہے کیونکہ اس نے ماضی میں بہت سے کھلاڑیوں کی مدد کی تھی۔ انٹرویو میں سابق کپتان انتخاب عالم نے کہا کہ ہر کسی نے دیکھا کہ کس طرح ماضی میں کئی محکمانہ ٹیمیں تشکیل دی گئیں ۔ انتخاب عالم نے کہا کہ ان محکمانہ ٹیموں میں سے کتنے بین الاقوامی سطح کے کرکٹرز ابھرے جنہیں اعلی سطح پر کھیلنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا بہت بڑا موقع ملا۔واضح رہے کہ محکمہ جاتی نظام کو پاکستان کے سابق کپتان عبدالحفیظ کاردار نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کے صدر بننے پر متعارف کرایا تھا۔انتخاب عالم نے کہا کہ بدقسمتی سے محکمانہ کرکٹ کی حوصلہ افزائی اور ان کو پابند کرنے کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر اور عظیم کھلاڑی ظہیر عباس نے مطالبہ کیا کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو فوری طور پر بحال کیا جائے، اور سابقہ تمام محکموں کو کرکٹ ٹیم بنانے کا پابند کیا جائے۔ظہیر عباس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کرکٹرز کے لیے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے خاتمے کے بعد بھی کھیل میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔بیٹنگ کے ماہر ظہیر عباس نے مزید کہا کہ ہزاروں کرکٹرز تھے جنہوں نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ سسٹم سے فائدہ اٹھایا اور اسے جاری رہنا چاہیے۔معین خان نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی فوری بحالی کا مطالبہ کردیا۔ سابق کپتان معین خان کا کہنا ہے کہ روزگار ہوگا تو نوجوانوں کیلیے کھیل میں کشش برقرار رہے گی، ان کے مطابق اگر پیٹرن انچیف کسی نئے چیئرمین کا انتخاب چاہتے ہیں تب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔دیے گئے انٹرویو میں معین خان نے کہا کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے معاملے میں میرا آج بھی عمران خان سے اختلاف ہے،سابق وزیر اعظم نے عوام کو روزگار فراہم کرنے کا نعرہ لگایا تھا لیکن ان کے اپنے ہی شعبے یعنی اسپورٹس میں کھلاڑیوں کی نوکریاں چلی گئیں۔انھوں نے کہا کہ کرکٹ ایک انڈسٹری بن چکی ہے، دیگر ملکوں میں کھیل کیا کردار ادا کررہے ہیں مگر ہمارے ہاں کیا صورتحال ہے؟ روزگار ہوگا تو نوجوانوں کیلیے اس کھیل میں کشش برقرار رہے گی،اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ پی سی بی کے پیٹرن انچیف شہباز شریف فوری طور پر ڈپارٹمنٹل کرکٹ بحال کرائیں۔
