تحریر: آفتاب مہمند
سنیئر صحافی حامد میر کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیوجہ ملک میں صدارتی نظام لانے کی ایک سازش تیار ہونا تھی۔ حامد میر کے مطابق سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان مستقبل کیلئے 2/3 میجارٹی کیساتھ آکر ملک میں پارلیمانی نظام کا خاتمہ اور صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے ایک منصوبہ بندی کررہے تھے جسکا اپوزیشن جماعتوں کو علم ہو گیا۔ منصوبہ بندی کا اغاز کچھ ماہ قبل ہوا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کو اس منصوبہ بندی کا پتا لگنے کے بعد انکو اکھٹا کرنے میں بنیادی کردار پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق صدر پاکستان آصف زرداری نے ادا کیا۔ یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے راستے جدا ہونے کے بعد ان میں خاصی دوریاں پیدا ہو چکی تھیں۔ آصف زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کو پھر سے اکھٹا کرنے کیلئے بلوچستان کے بعض سیاسی رہنماؤں سے مدد لی۔ اسی سال کے اغاز میں خفیہ طور پر اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جسمیں طویل ڈسکشن کے بعد طے پایا گیا کہ ملک میں مہنگائی، معیشت، داخلی وخارجہ صورتحال، بے روزگاری، لاقانونیت جیسے ایشوز عروج پر ہیں، کیوں نہ عمران خان کی اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے انکے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔ اس حوالے سے کئی ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو یہ اندازہ پہلے سے تھا کہ پاور کوریڈورز اب نیوٹرل ہوچکے ہیں، وہ ملکی سیاسی معاملات سے خود کو ہر حال میں دور اور غیر جانبدار رکھنا چاہتے ہیں۔ یقینا یہ آئین پاکستان کا تقاضا بھی ہے، جسکا اقرار خود ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار بابر نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا، انکا کہنا تھا کہ انکے ادارے کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان نہ صرف ملکی بلکہ بین الااقوامی سطح پر بھی سراہا جارہاہے۔ دوسری بات یہ تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے کچھ ایسی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو تحریک عدم اعتماد کی صورت میں عمران خان کے خلاف جاتیں۔ اس وقت اپوزیشن جماعتیں جب تحریک عدم اعتماد لانے پر باقاعدہ طور پر متفق ہوگئیں اور ایک منصوبہ بندی کے تحت ہوم ورک مکمل ہونے کے بعد فیصلہ ہوا کہ اب خبر لیک ہو جانی چاہیے۔ یہی وجہ تھی کہ اپوزیشن جماعتوں نے جنوری میں عمران خان کے خلاف تحریک لانے کا اعلان کردیا۔ اگر دیکھا جائے تو شروع میں تحریک انصاف کے تمام رہنماوں کی طرف سے اس کا مذاق اڑایا گیا تاہم معاملات جب سنجیدگی اختیار کرتے گئے، تو خود سابق وزیراعظم عمران خان میدان میں کود پڑے اور اپنی جماعت کے ممبران قومی اسمبلی و سابق اتحادی جماعتوں کو اکھٹا ساتھ رکھنے کی بھرپور کوشش کرنے لگے، لیکن شائد پھر بہت دیر ہو چکی تھی۔
ان دنوں میں جب عمران خان پارٹی ممبران اسبملی کو اکھٹا کرنے کی کوشش میں مصروف تھے، تو دوسری طرف اتحادی بکھرنے لگتے، لہذا کبھی ادھر بھاگ کبھی ادھر، لیکن گیم چینجر کہلانے والے آصف زرداری اپنا کام کر چکے تھے۔ گزشتہ دنوں جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے خود آصف زرداری نے اعتراف کیا کہ ایک خفیہ ملاقات کے موقع پر انہوں نے شہباز شریف کو بتایا تھا کہ حکومت کے 70 بندے آپکو ووٹ دیں گے۔ یقینا قومی اسمبلی میں یہ ثابت بھی کردیا گیا کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے بغیر بھی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔
کہانی بہت لمبی ہے لیکن اندر کی ایک بات یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وزیرداخلہ کا عہدہ ہر حالت میں مسلم لیگ ن کو دینا چاہتی تھی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روز اول سے اس بات پر قائم تھی کہ تحریک کی کامیابی کی صورت میں شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائےگا۔ ایک موقع پر مسلم لیگ ن کی قیادت نے خود پیپلز پارٹی کی قیادت سے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو ہونگے۔جہاں دیگر اہم وزارتوں کا معاملہ تھا تو فیصلہ ہو چکا تھا کہ دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی پوری طرح سے ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ جہاں تک صدر پاکستان کا تعلق ہے تو آصف زرداری کی بالکل یہ خواہش نہیں تھی کہ وہ خود صدر بن جائیں۔ انہوں نے مسلم لیگ نواز کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ اس مرتبہ صدر خیبر پختونخوا یا خصوصا بلوچستان سے ہونا چاہیے، لیکن معاملہ تب بگڑا جب قائد جمیعت مولانا فضل الرحمان نے خود صدر بننے کی خواہش کا اظہار کردیا۔ جس پر پیپلز پارٹی اور دیگر کم نشستوں والی جماعتوں نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ جمعیت وزارتیں بھی اپنی حیثیت سے زیادہ لینا چاہتی ہے اور وہ بھی اہم وزارتیں۔ اسکے ساتھ ڈپٹی اسپیکرشپ قومی اسمبلی، گورنرشپ خیبرپختونخوا ، بلوچستان کی گورنرشپ اور پھر صدر بھی خود بننا چاہتے ہیں۔ مولانا صاحب کر کیا رہے ہیں؟ یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ آصف علی زرداری خود کیوں نہ صدر بنیں۔ مولانا فضل الرحمان نے جب زیادہ حصہ مانگا تو شہباز شریف نے انہیں منانے کی کافی کوشش کی لیکن مولانا نہ مانے۔ آخر میں پیپلز پارٹی کی قیادت کو بتایاگیا کہ بات ہمارے بس سے باہر ہے، آپ لوگ خود جاکر میاں محمد نواز شریف سے بات کریں۔
ایسے میں جب دیگر اتحادیوں کو اندازہ ہوا تو وہ وزارتوں سے پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے۔ اس موقع پر اس راز سے بھی پردہ اٹھا کہ سارا کام تو آصف زرداری نے کیا ہے، انکی کوشش ہے کہ تمام اتحادیوں کو ایڈجسٹ کیا جائے لیکن ایک جماعت سب کچھ لینے کے موڈ میں ہے یہی وجہ تھی کہ بعض اتحادی جماعتوں نے وزارتیں لینے میں دلچسپی ظاہر کرنا چھوڑ دی، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی جماعت نے سندھ حکومت میں بھی ایک وزارت مانگی ہے۔ جہاں تک عوامی نیشنل پارٹی کا تعلق ہے، قومی اسمبلی میں چونکہ انکا ایک ہی ممبر ہے یعنی امیر حیدر ہوتی، جنکے مرحوم والد ماضی میں وفاقی وزیر مواصلات رہ چکے ہیں، اے این پی اسی وزارت کی خواہاں تھی۔ جب عوامی نیشنل پارٹی کو بتایا گیا کہ کچھ اہم پراجیکٹس کے بارے میں پہلے سے پلان کیا گیا ہے لہذا انکو یہ وزارت نہیں دی جا سکتی تو اے این پی کی قیادت نے وزارت تعلیم لینے سے معزرت کرلی۔ مفتاح اسماعیل کو وزارت خزانہ کا چارج دینے میں بھی آصف زرداری کا ہاتھ ہے، کیونکہ مفتاح اسماعیل سے انکی پرانی شناسائی ہے۔
محسن داوڑ کے حوالے سے جو باتیں گردش کررہی ہیں کہ انکو وزارت ملنے کی صورت میں پیپلز پارٹی مزید فیصلے کریگی۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ محسن داوڑ وزارت کے بغیر بھی حکومت کا ساتھ دیتے رہیں گے جیساکہ وزیراعظم شہباز شریف انکو مطمئن کرچکے ہیں۔ دوسری طرف جب مولانا فضل الرحمان کو اندازہ ہوا کہ انکا صدر بننا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے تو انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ملک میں فوری انتخابات کرانے کا مطالبہ کر دیا۔ صدرات کی کرسی حاصل کرنے کیلئے حکومتی جماعتوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مجموعی طور پر 2/3 میجارٹی ثابت کرناہوگی۔
اندر کی بات میں سے ایک اہم کہانی مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی کی بھی ہے۔ انکو وزیراعلی بنانے کا اصل پلان بھی آصف علی زرداری کا تھا۔ چونکہ اصف علی زرداری آئندہ عام انتخابات کیلئے پنجاب پر نظررکھے ہوئے ہیں اور چودھری پرویز الہی کیساتھ ملکر انکے لئے یہ ایک اہم منصوبہ بندی ثابت ہو سکتی تھی تاہم پرویز الہی عمران خان کے جال میں پھنس کر شائد سب کچھ کھو بیٹھے۔ پھر ہنگامی بنیادوں پر حمزہ شہباز کا وزارت اعلی پنجاب کے لئے امیدوار نامزد کرنا چودھری پرویز الہی کو دکھانا تھا، ورنہ حمزہ کو پیپلز پارٹی کسی صورت وزیراعلی پنجاب نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
جہاں پنجاب کی گورنرشب کا تعلق ہے تو یقینا پیپلز پارٹی اسمیں دلچسپی رکھتی ہے لیکن مسلم لیگ ن بھی اسکی خواہاں ہے جسکا بھی ایک وجہ ضرور ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے معاملے میں مسلم لیگ ن کو واضح بتایا گیا ہے کہ چئیرمین شپ کا عہدہ پیپلز پارٹی کا حق بنتا ہے۔ بعض ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ ڈپٹی چیئرمین شپ سنیٹ پربھی جمعیت علمائے اسلام کی نظریں ہیں۔ ذرائع اندر کی یہ بات بھی بتاتے ہیں کہ اگر صدارت کیلئے آصف زرداری امیدوار ہونگے تو پھر خیبر پختونخوا میں گورنر شپ کا عہدہ بھی جمعیت علمائے اسلام کے ہاتھ نہیں آئے گا، شائد کسی اور کو ملے۔
اب چونکہ وزیراعظم شہباز شریف کے اصرار پر بلاول بھٹو اور انکی ٹیم لندن میں ملاقات کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کی واپسی پر بلاول بھٹو کا وفاقی کابینہ میں شمولیت، گورنر پنجاب کا عہدہ، چئیرمین سنیٹ، مستقبل میں صدارت کیلئے امیدوار، دیگر اتحادیوں کی بھی کابینہ میں شمولیت جیسے معاملات واضح ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کابینہ میں اب بعض اتحادی ممبران کی شمولیت یقینا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ جہاں مستقبل قریب کا سوال ہے معیشت کو تھوڑا بہت سہارا دینے کیساتھ ساتھ حکومت نے چند بڑی بڑی ضروری اصلاحات کرا کرعام انتخابات کیطرف آگے بڑھنا تو ہے تو ایسے میں عام انتخابات سے قبل اور بعد میں سیکورٹی ادارے مکمل غیر جانبدار رہیں گے۔ جو بھی حکومت آئے گی، اسٹیبلشمنٹ میرٹ اور آئین پاکستان کے مطابق اس حکومت کیساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کے کاموں میں بالکل مداخلت نہیں کریگی البتہ آئین وملکی قانون کے دائرہ کار سے کسی کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ بعض بیرونی یا بین الاقوامی معاملات میں جہاں حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت پڑے گی، وہاں مکمل سپورٹ دیگی۔ البتہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی کوشش، خراب معاشی صورتحال، ملکی سیکورٹی صورتحال پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔ جہاں تک عام انتخابات کیلئے مرکزی سطح پر اتحاد کا تعلق ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اگر سیاسی روایات میں مکمل طور پر تبدیلی لے آتی ہے تو مرکز میں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا امکان ہے، اگر تحریک انصاف ایسا نہیں کرپاتی تو پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جائنٹ حکومت قائم ہوگی۔
عام انتخابات کی صورت میں حکومت اور تمام ادراوں کی بھرپور کوشش ہو گی کہ ملک کو ہر صورت میں معاشی بحران سے نکالا جائے اور ملکی سیکورٹی صورتحال پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ جہاں خطے میں دہشتگردی کے باعث ایک غیر یقینی سی صورتحال ہے
تو ایسے میں ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ داعش خراسان کی شوری نے گزشتہ دنوں ایک اہم اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا، جسکے مطابق پاکستان کے اندر جمعیت علمائے اسلام پر حملے بڑھا کر انکوٹارگٹ کیا جائے گا۔
