کراچی (رپورٹ: محمدانور) کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے محکمہ انسداد تجاوزات کو بدعنوان سینئر افسران نے بھاری ماہانہ بھتے کے عوض محکمہ ’’قیام تجاوزات‘‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ جسارت کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مذکورہ محکمے کے سینئر ڈائریکٹر نے عدالت عظمیٰ کے شہر سے تجاوزات ہٹانے کے حکم پر تجاوزات کی موجودگی پر چالان کرنے پر پابندی عاید کردی، ساتھ ہی تجاوزات کی موجودگی پر ہفتہ یا ماہانہ بھتا وصول کرنے کی بھی اجازت دیدی۔ تحقیقات کے مطابق صرف نارتھ ناظم آباد بلاک جی حیدری بازار کے قریب 152 کیبنوں پر مشتمل خلاف قانون مارکیٹ قائم کردی۔ اس بازار کی غیر قانونی موجودگی کے عوض صرف بلدیہ عظمیٰ کا کرپٹ عملہ مبینہ طور پر فی کیبن کم ازکم 5 ہزار روپے بھتہ وصول کیا کرتا ہے جو مجموعی طور پر 7لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ اور 9 کروڑ ایک لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ ہوتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس بھتے کی وصولیابی کی ذمے داری سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر کامران حبیب علوی کو مبینہ طور پر ڈویژن میں تعیناتی کے عوض ٹھیکے پر دی ہوئی ہے۔ اس مارکیٹ کی مذکورہ کیبنوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے عوض ڈی ایم سی وسطی کا عملہ اور علاقہ پولیس علیحدہ بھتا وصول کرتے ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی و وزیر اعلیٰ کے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب ایڈمنسٹریٹر بلدیہ وسطی جن کے پاس، ڈپٹی کمشنر کا بھی اضافی چارج ہے اور متعلقہ اینٹی کرپشن پولیس کروڑوں روپے کے بھتوں کے عوض آنکھیں بند کیے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں کی جاتی کہ بلدیہ عظمیٰ اور عالیہ کا عملہ تجاوزات ہٹانے کے بعد دوبارہ انہیں قائم کرانے میں بھی براہ راست ملوث ہوتا ہے حالانکہ ان اداروں کے پاس سیکڑوں چوکیدار بھی موجود ہیں جن کا کام اراضی کا تحفظ بھی ہے۔ مذکورہ تحقیقات تو صرف نارتھ ناظم آباد کے ایک مقام کی ہے اور صرف مثال کے طور ’’ جسارت‘‘ سامنے لارہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کا حکم عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کی طرف سے متعدد بار دیا جاچکا ہے۔اس حکم پر عمل درآمد نہ کرکے بھی بلدیاتی ادارے توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔
