یوکرین کہنا ہے کہ وہ تباہ شدہ بندرگاہی شہر ماریوپول سے شہریوں کو نکالنے کی ایک نئی کوشش کرے گا جو کہ زیادہ تر روسی افواج کے زیر قبضہ ہے جبکہ ہفتے کے آخر میں جنگ بندی کی امیدیں معدوم ہوچکی ہیں۔
خبر کے مطابق، کیف نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ بحیرہ اسود کے شہر اوڈیسا میں روسی حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم 5 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو ئے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور اس لڑائی کے دوران شہریوں کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
یوکرین کے صدارتی دفتر کے سربراہ اینڈری یرمارک نے ٹیلی گرام پر کہا کہ 5 یوکرینی ہلاک اور 18 زخمی ہوئے ہیں، یہ صرف وہ ہیں جنہیں ہم تلاش کر پائے ہیں، ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔
گزشتہ روز یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے کہا تھا کہ اوڈیسا پر روسی میزائل حملوں کا واحد مقصد دہشت گردی ہے۔
یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دفاعی نظام کے ذریعے دو روسی ٹی یو 95 میزائلوں کو روکا، یہ میزائل بحیرہ کیسپین سے داغے گئے تھے۔
یوکرین کی نائب وزیر اعظم ایرینا ویرشچک نے ٹیلی گرام کے ذریعے کہا ہے کہ آج ہم دوبارہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو نکالنے کی کوشش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق ہوتا ہے تو ہم دوپہر کے قریب انخلا شروع کر دیں گے‘۔
قبل ازیں، روس کے ایک سینئر فوجی افسر نے ’خصوصی آپریشن کے دوسرے مرحلے کے بارے میں کہا تھا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرین پر شروع کیے گئے حملوں کا مقصد یوکرینی زمین کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنا ہے‘۔
