دادو(نمائندہ جسارت)سندھ حکومت کے جانب سے ضلع دادو مختلف حلقوں میں سالانہ ڈولپمنٹ پروگرام(اے ڈی پی) کے تحت 55 کروڑوں کے 25 اپریل کو ڈسٹرکٹ روڈز آفس میں ہونے والے ٹینڈروں کے سلسلے میں اوپننگ والے دن ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو انجینئر دادو مخدوم محمد علی ٹھیکیداروں سے ٹینڈر لے کر خفیہ طور پر دادو سے کراچی فرار ہو جانے کیخلاف ضلع دادو سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل ٹھیکیداروں نے سندھ ٹھیکیدار ایکشن کمیٹی ضلع دادو کے صدر نیاز حسین پنہور، امان اللہ، احمد ملاح، حبدار علی بھنڈ، منظور کھوسو اور دیگر کی قیادت میں 100 سے زائد ٹھیکیداروں نے تپتی دھوپ میں دادو پریس کلب کے سامنے احتجاج کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ٹینڈر والے دن پروکیو مینٹ کمیٹی کی غیر موجودگی میں انجینئر چالاکی کر کے ٹینڈر ڈبی میں ڈلوانے کے بجائے ایک فراڈ کے تحت کچھ ٹھیکیداروں سے ٹینڈر لے کر کراچی فرار ہوگئے ہیں اور اب معلوم ہوا ہے کہ وہ سیپرا رول کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاری رشوت کے عیوض من پسند اور نان پروفیشنل ٹھیکیداروں کے نام پر بڈ چڑھا رہے ہیں جو ضلع دادو کے پروفیشنل ٹھیکیداروں سے نا انصافی اور زیادتی ہے جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
