مسجد نبوی ﷺ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سابق وزیراعظم عمران خان، فواد چوہدری، شہباز گل اور شیخ رشید سمیت 150 افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔فیصل آباد پولیس کے مطابق مقدمہ محمد نعیم نامی شہری کی درخواست پر تھانہ مدینہ ٹاؤن میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، رکن قومی اسمبلی راشد شفیق اور انیل مسرت بھی نامزد ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق شیخ راشد کی قیادت میں 150 افراد کو سعودی عرب بجھوایا گیا جبکہ لندن سے بھی ایک وفد سعودی عرب پہنچا، مسجد نبوی ﷺ میں پاکستانی زائرین کو ہراساں کر کے شعار اسلام کی انجام دہی سے زبردستی روکا گیا۔ درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سارا واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عمل میں آیا، اس حوالے سے شیخ رشید اور شیخ راشد کی ویڈیوز بھی موجود ہیں جو تفتیش میں پیش کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ مسجد نبوی کا تقدس پامال کرنے کے الزام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کیخلاف درخواست دیدی گئی ہے۔ یہ درخواست اٹک شہر کے تھانے میں نامعلوم پاکستانی شہری کی جانب سے دی گئی ہے جو مدینہ منورہ میں مقیم ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مورخہ 28 اپریل 2022ء بروز جمعرات کو سوشل میڈیا پر دیکھا کہ مسجد نبوی کیں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جو کہ انتہائی قابل افسوس اور ناقابل برداشت ہے۔ درخواست می کہا گیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں دھمکی دی تھی کہ موجودہ حکومت کے وزرا جب حرم پاک جائیں گے تو وہاں جو عوام ان کا حال کرے گی، وہ یہ خود دیکھ لیں گے۔
پاکستانی شہری نے اپنی درخواست میں لکھا کہ شیخ رشید کے بیان کے عین مطابق جب پاکستانی وزرا کا وفد وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسجد نبوی پہنچا تو وہاں موجود لوگوں نے ہلڑ بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر نعرہ بازی شروع کر دی۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ شیخ رشید کیخلاف مسجد نبوی میں ایک مخصوص گروہ سے اس کا تقدس پامال کرانے کے الزام میں فوری مقدمہ درج کیا جائے۔ عمران خان اور ان کے ساتھی بااثر اور ملک کی بڑی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں تو شاید یہ مقدمہ قائم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن ملک میں سیاسی مباحث میں مزید تلخی اور رویوں میں سختی پیدا ہوگی۔ حکومت کی سرپرستی میں ہونے والے اس اقدام سے یہ تاثر قائم ہوگا کہ حکمران اب عمران خان اور ان کے ساتھیوں سے سیاسی حساب برابر کرنے کے لئے توہین مذہب کے قانون کو استعمال کرنے جیسے حربے استعمال کرنے لگے ہیں۔ اس تاثر سے ملک کے ان جمہوریت پسند عناصر کو بھی مایوسی ہوگی جنہوں نے آئین کی بالادستی کے نام پر ملک میں حکومت کی تبدیلی کو قبول کیا ہے اور یہ امید باندھی ہے کہ نئی حکومت چونکہ متعدد سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ہے، اس لئے اس کے دور میں مفاہمت اور وسیع المشربی کی روایت کو زندہ کیا جائے گا۔
تاکہ ملکی سیاست میں الزام تراشی اور تعصب وعناد کی بنیاد پر ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کا طریقہ ختم ہوسکے۔ تاہم نئی حکومت کے دو اہم وزیر اگر اس معاملہ کو مذہبی حوالہ سے اہم قرار دے کر مقدمہ قائم کرنے اور اس پر تیزی سے کارروائی کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں تو اس کا یہی مطلب اخذ کیا جائے گا کہ شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت بھی ملک میں سیاسی انتقام کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے۔ اور اس مقصد کے لئے وہ کسی بھی انتہا تک جانے پر تیار ہے۔ توہین مذہب کے قوانین کو سیاسی مقابلے میں برتری حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنے سے موجودہ حکومت کا اعتبار متاثر ہوگا، اسے صریحاً ناجائز اور انتقامی کارروائی سمجھا جائے گا۔ اس سے عوام کے مختلف گروہوں میں پائی جانے والی تلخی میں اضافہ ہوگا۔
کسی حکومت کو ایسا کوئی اقدام زیب نہیں دیتا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کا سبب بنے۔ خاص طور سے اگر سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا تو اس سے معاشرے میں پائی جانے والی بے چینی میں بھی اضافہ ہوگا اور انتہاپسندانہ رویوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔ آج حکومتی وزیر ایک افسوسناک سیاسی سانحہ کی بنا پر تحریک انصاف کی قیادت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس کے خلاف اگر توہین مذہب قوانین کا استعمال جائز قرار دیں گے تو عام شہری بھی یہی سمجھے گا کہ ان قوانین کو وہ بھی اپنے ’فائدے و منفعت‘ کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔ بدقسمتی سے بلاسفیمی قوانین کے ناجائز استعمال سے معاشرے میں اس قسم کی شدت پسندی پہلے ہی راسخ ہے، لیکن موجودہ اتحادی حکومت کا نیا اقدام اسے مضبوط کرے گا جس سے معاشرے میں عدم برداشت کا رویہ مستحکم ہوگااور انتہا پسندی کو فروغ ملے گا۔
پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف توہین مذہب کے قوانین کے تحت مقدمہ قائم کرنے اور اس کے تحت کارروائی کا عزم ظاہر کرنے کی مذمت کی ہے اور حکومت کو اس سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ایک صائب اور اصولی مؤقف ہے۔ پاکستان کا ہر ہوشمند اور امن پسند شہری اس مؤقف کی حمایت کرے گا۔ حکومت وقت میں مسلم لیگ (ن) کے عناصر کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے کہ یہ اس پارٹی کی اکثریتی حکومت نہیں ہے۔ بلکہ یہ متعدد سیاسی پارٹیوں کا متحدہ پلیٹ فارم ہے جس میں مذہبی انتہاپسندی سمیت متعدد معاشرتی و سیاسی مسائل پر مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وزیر اگر کوئی ایسا طرز عمل اختیار کریں گے جس سے ان پارٹیوں کے بنیادی اصولی مؤقف کو نقصان پہنچنے گا تو اس سے اتحادی حکومت میں انتشار اور بدمزگی پیدا ہوتے دیر نہیں لگے گی۔
شہباز شریف کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ قومی اسمبلی میں صرف دو ووٹ کی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے ارکان بظاہر اسمبلی سے استعفے دے چکے ہیں۔ یہ صورت حال بھی آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں ایک بڑا سیاسی و پارلیمانی چیلنج بن کر سامنے آسکتی ہے۔ اس پس منظر میں موجودہ حکومت کو نہایت احتیاط سے پالیسی بنانے اور کابینہ کو اعتماد میں لئے بغیر اس قسم کے سطحی فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
پیر، 2 مئی 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post سیاست میں مذہب کا ہتھیار appeared first on شفقنا اردو نیوز.
