روس صدارتی پیلس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس مسلح افواج کو معلوم ہے کہ امریکہ، انگلینڈ اور نیٹو یوکرین کو مسلسل خفیہ خبریں پہچا رہے ہیں۔
پیسکوف نے دارالحکومت ماسکو میں اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں امریکہ کے یوکرین کو روسی فوج کی موجودگی کے علاقوں سے متعلق خفیہ خبریں پہنچانے کے بارے میں، مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ جو معلومات یوکرین کو پہنچائی جا رہی ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہیں بلکہ پہلے سے ہی ہر ایک کے علم میں ہیں۔ روس مسلح افواج مکمل طور پر باخبر ہے کہ امریکہ، انگلینڈ اور نیٹو یوکرینی فوج کو خبروں اور دیگر عناصر کی منتقلی کر رہے ہیں۔
پیسکوف نے امریکہ، انگلینڈ اور نیٹو کی طرف سے یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کا بھی ذکر کیا اور کہا ہے کہ یہ سب کاروائیاں نہ تو اسپیشل آپریشن کی جلد تکمیل میں معاونت کر رہی ہیں اور نہ ہی اسپیشل فوجی آپریشن کے، اپنے اہداف تک رسائی کے، راستے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
یوکرین کی طرف سے، روس کے ماریوپول کی آزوسٹال میٹالرجی فیکٹری میں داخل ہو کر حملے شروع کرنے کے، دعووں کا بھی جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آپ سب گواہ ہیں کہ روس کے صدر اور فوج کے کمانڈر ولادی میر پوتن کی طرف سے حملہ شروع نہ کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا آزوسٹال کا محاصرہ جاری ہے اور وہاں کے انسانی کوریڈور کھُلے ہیں۔
واضح رہے کہ روس مسلح افواج نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ شروع کروا دیا تھا۔
