ویب ڈیسک —
گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں شیشپر گلیشیئر کے پگھلنے کے نتیجے میں بننے والی جھیل سے پانی کے اخراج نے تباہی مچا دی جس کی وجہ سے ہفتے کو شاہراہ قراقرم پر تعمیر کردہ حسن آباد پُل تباہ ہو گیا ہے۔
جھیل سے پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے چار گھر، سینکڑوں کنال زرعی زمین، پانی مہیا کرنے کا نظام اور دو بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق جھیل سے پانی کا اخراج جمعے کو شروع ہوا تھا۔
پل ٹوٹنے کی وجہ سے وسطی ہنزہ کا زمینی رابطہ اپر ہنزہ سے ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے ہزاروں افراد جن میں سیاح بھی شامل تھے، دونوں اطراف پھنس گئے۔
حسن آباد کا پل گرنے سے شاہراہ قراقرم کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے جس کے بعد اسے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
رواں سال موسم گرم ہوتے ہی ہنزہ کے علاقے حسن آباد میں شیشپر گلیشیئر میں بننے والی جھیل سے پانی کا بہاؤ شروع ہو گیا تھا۔
ٹورسٹ پولیس گلگت بلتستان کے مطابق چھوٹی گاڑیوں کو متبادل راستوں پر منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ بڑی گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر ہنزہ عثمان علی کے مطابق چھوٹی گاڑیوں کو شاہراہ نگر سے گزارا جا رہا ہے۔ عثمان علی کے بقول پانی کے اخراج میں کمی آئی ہے اور پانی نکلنے کے بعد عارضی پل تعمیر کیا جائے گا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق عثمان علی کا مزید کہنا تھا کہ شیر آباد گاؤں کے 22 گھروں سے مقامی آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ علی آباد شہر اور حسن آباد شہر میں زرعی اور پینے کا پانی کا نظام بھی تباہ ہو گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہفتے کو آٹھ ہزار کیوسک پانی کا اخراج شروع ہوا ۔ جھیل ایک کلو میٹر تک لمبی اور چوڑی ہے جب کہ جھیل کی گہرائی 300 فٹ تک ہے۔
