English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گندم کی صورت حال پر مراد علی شاہ اور طارق چیمہ کی ملاقات

القمر

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں گندم کے دستیاب ذخیرے، حال ہی میں کاشت کی گئی نئی فصل اور دیگر ضروری معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ ضروری درآمدات بروقت ممکن ہوسکیں۔ اجلاس میں وزیر خوراک مکیش چاولہ، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، صوبائی سیکریٹری خوراک راجہ خرم شہزاد، ویٹ کمشنر وزارت فوڈ سیکیورٹی امتیاز گوپانگ، وزیراعلیٰ سندھ کے اسپیشل سیکریٹری رحیم شیخ اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں بشیر چیمہ کا خیرمقدم کیا اور گندم کے ذخیرے اور نئی فصلوں کی پیداوار کا جائزہ لینے کیلئے انکی بروقت اقدام پر ان کا شکریہ ادا کیا تاکہ گندم کی قلت کو پورا کرنے کیلئے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں گندم کے ذخیرے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بروقت گندم کی درآمد کیلئے مجموعی قلت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کا پیداواری ہدف 4.7 ایم ایم ٹیز کی ضرورت کے نتیجے میں 3.8 ایم ایم ٹیز تھا جس میں اناج بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 0.9 ایم ایم ٹی کی کمی کو پنجاب سے یا پاسکو سے گندم خرید کر پورا کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارے صوبے کی گندم کی کمی کو عموماً نجی شعبہ پورا کرتا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 5500 روپے فی 100 کلو گرام سپورٹ پرائس کے نتیجے میں 1.4 ایم ایم ٹی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کاشتکاروں سے گندم خرید رہے ہیں تاکہ نسبتاً بہتر قیمت کا فائدہ ان تک پہنچ سکے۔ صوبائی وزیر خوراک مکیش چاولہ نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 مئی 2022 تک کراچی میں اوپن مارکیٹ کی قیمت 6000 روپے، حیدرآباد 5700 روپے، میرپورخاص 5850، شہید بینظیر آباد 5800 اور لاڑکانہ میں 5700 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیکرٹری خوراک راجہ خرم نے کہا کہ صوبائی حکومت پاسکو سے 250000 میٹرک ٹن گندم خریدنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور پنجاب سے گندم بھی خرید سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے گندم کے ذخیرے کا حساب لگائے اور وفاقی حکومت کو بتائے کہ اسے مزید کتنی گندم کی ضرورت ہے تاکہ تمام صوبوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے درآمدی آرڈر بروقت دیا جا سکے۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے اپنی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کرے۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث ہم زیادہ زمین پر کاشت نہیں کرسکتے تاہم جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے وزیر اعلیٰ سندھ کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی محکمہ زراعت مل بیٹھ کر ملک میں فی ایکڑ پیداوار کو بڑھانے کیلئے نئے کاشت کے طریقے اپنانے کیلئے تجاویز پر کام کریں گے۔ مراد علی شاہ نے اپنے اختتامی کلمات میں وفاقی وزیر پر زور دیا کہ وہ دیگر ممالک کے کاشتکاروں / تاجروں کو بہتر قیمت دینے کے بجائے مقامی کاشتکاروں کو مناسب قیمتیں فراہم کریں جہاں سے پاکستان گندم درآمد کرنا چاہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے