جہلم(مانیٹرنگ ڈیسک+صباح نیوز) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اربوں روپے کرپشن کیسز میں مفرور شخص نواز شریف کی طلبی پر وفاقی کابینہ کا لندن جانا پاکستان کی توہین ہے۔جہلم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ کابینہ کے لوگ عوام کے پیسوں پر لندن جاکر وہاں بیٹھے سزایافتہ شخص اور مجرم سے ہدایت لیں گے، یہ پاکستان کی توہین ہے اور اب غیور قوم اس کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے۔ن لیگ کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مریم نواز اور بڑابھائی فوج کے خلاف بیان دیتا ہے اور چھوٹا بھائی بوٹ پالش کرتا ہے، شہباز شریف شرم کرو، میں نے جس میر جعفر کا ذکر کیا وہ تم ہو کیونکہ جیسے انگریزوں نے میر جعفر کو اقتدار پہ بٹھایا ویسے ہی امریکا نے تمھیں اقتدار پر بٹھایا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے آصف زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے وہ شہر کا رخ کرتا ہے، میں سندھ کو آزاد کراؤں گا، تم نے سندھ کو لوٹا، ظلم کیا اور جہاز بھر بھر کے پیسے ، ڈالرز باہر بھیجے، میں اب سندھ آرہا ہوں۔سابق وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا کہ ’میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اقتدار سے نکل کر زیادہ خطرناک ہوجاؤں گا کیونکہ وہاں دفتر میں کام کی مصروفیات زیادہ تھیں، بیٹھ بیٹھ کر میرا وزن بھی بڑھ گیا ہے، خدا کا شکر ہے کہ اب میں دوبارہ عوام کے درمیان آکر آزاد ہوگیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے ای یو ڈس انفارمیشن لیب بنایا جس نے پاکستان پر تنقید کی، پاکستانی فوج اور مجھے نشانہ بنایا، اْن کی خواہش ہے کہ پاکستان کے 3 ٹکڑے ہوجائے، بلوچستان میں دہشت گردی کا مقصد بھی پاکستان کو توڑنا ہے مگر پی ٹی آئی اور فوج کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔عمران خان کے بقول’شہباز شریف کہتا ہے میں فوج کے خلاف بیان دیتا ہوں، میرا سب کچھ پاکستان میں ہے اور جو کمایا تھا وہ سب فروخت کر کے ملک لے آیا، میں بھاگ کر کہیں نہیں جاؤں گا، میں تو کہتا ہوں ای سی ایل میں ڈال دو کیونکہ میں باہرجانا نہیں چاہتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس ہمیں 30فیصد کم قیمت میں تیل اور گندم دینے پر راضی ہوگیا تھا مگر کیا شہباز شریف تم میں جرات ہے کہ روس سے تیل اور گندم خرید نے کی بات کرو؟ تم ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اس کے لیے تمہیںامریکا سے اجازت لینا ہوگی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے دور میں مودی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ پاک فوج کے خلاف بات کرے، ذوالفقار علی بھٹو عوام کے لیے کھڑا ہوا تو اس کے خلاف بھی سازش ہوئی، جس میں فضل الرحمن اور نوازشریف شریک تھے۔قبل ازیں پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امپورٹڈ کٹھ پتلیاں پنجاب میں آئینی انارکی و فساد کو ہوا دے رہی ہیں،پہلے گھوسٹ انتخاب کے ذریعے ایک مجرم کٹھ پتلی بطور وزیراعلیٰ صوبے پر مسلط کیا گیا، اب تمام دستوری تقاضے بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر کے منصب کی توہین کی گئی ہے، اور گورنر پنجاب کو دستور کے تحفظ پر اصرار کے باعث نہایت شرمناک طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا پنجاب میں اس کھلی دستور شکنی کا خاموشی سے تماشا دیکھا جارہا ہے، لازم ہے کہ عدالت عظمیٰ صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر معاملے کو از خود دیکھے، پنجاب میں ضمیرفروشوں کا معاملہ بھی بلاتاخیر انجام تک پہنچایا جائے۔
