English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تاریخی طور پر وادی سندھ ہی اس خطے کی اصل شناخت ہے،صوبائی وزیر رتعلیم

القمر

کراچی : صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ تاریخی طور پر وادی سندھ ہی اس خطے کی اصل شناخت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقراء یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار “پیغام پاکستان” سے خطاب کرتے ہوئے کیاکہ انڈس سے ہی انڈیا نکلا ہے اور کشمیر تاریخی طور پر ہی پاکستان کا انمٹ حصہ ہے،ہم امن کے داعی ہیں اور کبھی کسی قوم پر حملہ آور نہیں ہوئے۔

سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے “پیغام پاکستان” کے تحت منعقدہ سیمینار سے وزیر برائے یونیورسٹیز اور بورڈز محمد اسماعیل راہو سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائیس چانسلر پروفیسر محمد علی شاہ اسلامک آئیڈیولوجی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نیشنل کریکیولم کونسل کی چیئرپرسن مریم چغتائی اور دیگر نے خطاب کیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ آج کا پاکستان تاریخی طور پر وادیء سندھ ہی تھا،اور یہی بات بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اصل میں انڈیا کا نام بھی انڈس سے نکلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اقوام عالم کو اپنی امن پرستی کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہے کہ آج تک وادیء سندھ کے کسی بھی سائیٹ سے کوئی جنگی ہتھیار نہیں ملا،ہم تارہخ میں کبھی حملہ آور نہیں رہے ہم نے تو ابھی اپنے تحفظ میں ہتھیار اٹھائے ہیں۔

سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہمیں شاہ لطیف سچل سرمست بابا بھلے شاہ سلطان باہو اور شاہ حسین کے پیغام کو بھی پڑھنا پڑے گااور ان سے بھی صدیوں پہلے خواجہ معین الدین اور نظام الدین اولیاء کے صوفی پیغامات نے ہیں برصغیر میں امن کی آبیاری کی۔

اس کے علاوہ سیمینار سے صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ ہمارے تعلیمی ادارے دہشتگردی جیسے مسئلے پیدا کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں لیکن اس مسئلے کا حل پھر بھی ہمیں انہی تعلیمی اداروں کے پڑھے لکھے اور باشعور طبقے سے ہی حاصل ہوگا اور اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ پیغام پاکستان مختلف یونیورسٹیز میں اس طرح کے سیمینارز منعقد کروا رہا ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائیس چانسلر پروفیسر محمد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا اصل پیغام عدم تشدد اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام ہے جس کو بابا فرید سے لیکر شاکر شجاع آبادی نے بہت اچھی طرح بیان کیا ہے۔

مریم چغتائی نے کہا کہ تعلیمی نصاب کو دور جدید کے مطابق ڈھالنا ہے،آجکل کے بچے نے پڑھ کر صرف نوکری ہی نہیں کرنی اسے معاشرے کا کارآمد شہری بھی بنانا ہے،یہ تب ہی ہو گا جب نصاب بہتر ہو گا،نویں سے بارہویں کے نصاب کو بہتر اور یکساں بنانے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ پہلی بار سات دیگر مذاہب کے مضامین کو نصاب میں شامل کرنے جارہے ہیں،اس حوالے سے کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں،پہلی سے آٹھویں تک تعلیمی اصلاحات آ رہی ہیں لیکن اس کے بعد کا کوئ نہیں سوچ رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے