کراچی (اسٹاف رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی یونیورسٹی میں خود کش بم دھماکا کرنے والی خاتون کی سہولت کار خاتون کا خاکہ تیار کرلیا گیا، خاکہ عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 26 اپریل کو کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں چین کے 3 اساتذہ اور ایک پاکستانی ڈرائیور جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کی تحقیقات کے دوران مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز میں یہ بات سامنے آئی کہ خودکش بمبار شاری بلوچ کے یونیورسٹی پہنچنے پر ایک خاتون بھی اس سے ملی اور ممکنہ طور پر کوئی چیز اسے فراہم کی تھی۔ خاتون نے یونیورسٹی کے اندر ایک کار سوار سے لفٹ بھی لی تھی۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ عینی شاہدین کی مدد سے مذکورہ خاتون کا خاکہ تیار کرلیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس خاتون کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ دوسری طرف دھماکے میں خاتون کی معاونت یا خودکش سے اتفاقیہ ملاقات تفتیش کاروں میں زیر بحث ہے، اس حوالے سے ایک تفتیش کار کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاون خاتون نے لفٹ دینے والے کار سوار سے 500 روپے کیش کی مدد بھی مانگی تھی مذکورہ خاتون کا خودکش حملہ آور سے ملنا اتفاق بھی ہوسکتا ہے جس کا مقصد مدد حاصل کرنا ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون خود یا ان کے اہلخانہ بھی تحقیقاتی اداروں کے سامنے خود پیش ہوسکتے ہیں۔
