آسٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست ٹیکساس کے اسکول میں فائرنگ سے 19 بچے اور 2اساتذہ ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ یووالڈے چھوٹے شہر میں پیش آیا ، جہاں 16ہزار افراد رہتے ہیں۔ یہ میکسیکو کی سرحد کے قریب سان انٹونیو سے تقریباً 137 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گورنر ایبٹ کا کہنا تھا کہ 18سالہ مشتبہ حملہ آور کی شناخت سلواڈور راموس کے نام سے ہوئی ہے ،جو اسی قصبے کا مقامی رہائشی تھا ۔ اس کے پاس ایک ہینڈگن اور ایک رائفل تھی جس سے اس نے بچوں پر گولیاں چلائیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں دوسری، تیسری اور چوتھی جماعت کے طالب علم تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ قوم سے جذباتی خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات امریکا ہی میں کیوں ہوتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی کانگریس کوششوں کے باوجود بندوق پر کنٹرول سے متعلق قانون سازی میں ناکام رہی ہے۔ اس طرح کی مسودہ قانون کو روکنے کی بڑی وجہ امریکاکی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کی طاقتور لابی کا دباؤ ہے، جو بندوق پر کنٹرول کی سخت مخالف ہے۔ صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ اب ایک سنجیدہ قدم اٹھایا جائے۔ انہوں نے واقعے کے غم میں وائٹ ہاؤس، تمام فوجی اڈوں، جہازوں اور امریکی سفارت خانوں پر امریکی پرچم کو سرنگوں کرنے کا حکم دیا ۔
