English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی اسمبلی: اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی ترامیم ختم

القمر

پاکستان کی قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم منظور کی ہیں جس سے تحریکِ انصاف کی گزشتہ حکومت کی اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق اور عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی ترامیم ختم ہو گئی ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کا بل پیش کیا جسسے منظور کر لیا گیا۔

وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات پر الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھائے تھے اور اب اس سے متعلق بل میں ترمیم کی گئی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں ایک نیا بل بھی پیش کیا ہے جس پر بحث شروع کر دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئے بل میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں الیکٹرانک مشین کے استعمال اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے لیے پائلٹ پروجیکٹ تیار کرے۔

انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ حکومت میں کی گئی ترامیم کو واپس لے لیا گیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں گزشتہ برس نومبر میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات سے متعلق ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا تھا۔

انتخابی ترمیمی بل کے تحت 2017 کے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے حق کی منظوری دی گئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں موجودہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں اس وقت حزبِ اختلاف میں تھیں۔ اس قانون سازی کی منظوری کے وقت متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اس وقت ان جماعتوں کا مؤقف تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال دنیا میں ترک کیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان میں اسے ہمارے اُوپر مسلط کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس قانون سازی سے قبل مئی 2021 میں ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق صدارتی آرڈیننس جاری کیے گئے تھے۔ اس آرڈیننس میں بھی الیکشن کمیشن کو پائلٹ پروجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ختم ہوئی تھی اور موجودہ حکومتی اتحادی جماعتوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب بنائی تھی۔

بعد ازاں عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہی ہے کہ الیکشن کمیشن نے بروقت حلقہ بندیاں نہ کر کے نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ الیکشن کمیشن کی نااہلی کے باعث ملک میں قبل از وقت انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے۔

اس سے قبل ایک سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ حلقہ بندیوں کےحوالے سے حکومت کو 16 خطوط تحریر کیے گئے لیکن حکومت نے اس بارے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

واضح رہے کہ تحریکِ انصاف اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد مسلسل قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو عمران خان نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا جو کہ 25 مئی کو شروع ہوا اور 26 مئی اسلام آباد پہنچ کر ختم ہو چکا ہے۔

اس مارچ کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ موجودہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کے حق، احتساب کرنے والے ادارے نیب کے قانون، الیکٹرانگ ووٹنگ مشین کے استعمال اور دیگر قوانین ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کو فائدہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک بھی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ذمہ داری دی گئی تو سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے لیے نادرا ای ووٹنگ کا سسٹم تیار کرے گا تاہم اس کا استعمال اور انتظام الیکشن کمیشن کے پاس ہو گا۔

کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ای ووٹنگ کے نظام کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن باقاعدہ طور پر نادرا کو یہ ذمہ داری سونپے اور سیاسی جماعتوں کا اس نظام پر اتفاقِ رائے ہو۔ اگر نادرا کو ای ووٹنگ سے متعلق نظام بنانے کا کہا جاتا ہے تو وہ ایک یا ڈیڑھ سال میں سسٹم (سافٹ ویئر) بنا کر الیکشن کمیشن کے حوالے کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے