لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ان کے مشیر برائے قانونی امور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ نے منصورہ میں ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پرتبادلہ خیال ہوا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت نے کہا کہ عدالتوں میں انصاف صرف طاقتور افراد کو میسر ہے۔ عام آدمی کے معمولی کیس کو ختم ہونے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ غریب آدمی تھانے اور کچہری کے نام سے بھی خوف کھاتا ہے۔ ملک کی عدالتوں میں لاکھوں کیس زیرالتوا ہیں ۔ جماعت اسلامی ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کریں اور اسی طرح تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ جماعت اسلامی ملک میں احتساب کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ہمیشہ سے آوازبلند کر رہی ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ میں پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں ملوث تمام افراد کے احتساب کے لیے اپیل کی ہوئی ہے۔ اگر اعلیٰ عدلیہ دونوں اسکینڈلز میں ملوث افراد، جن میں سے بڑی تعداد کا تعلق تینوں حکمران جماعتوں سے ہے، کے خلاف بروقت ایکشن لیتی تو کرپشن کا قلع قمع کرنے میں بے حد کامیابی ہوتی۔ ملک میں دو فیصد اشرافیہ 75برسوں سے اقتدار پر قابض ہے، وسائل کو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے اور غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی مطالبہ کر رہی ہے کہ وفاقی شریعت عدالت کے حرمت سود سے متعلق فیصلے پر حکومت من و عن عمل کرے اور معاشی نظام میں سود کو مکمل طور پر ختم کرے۔ آئی ایم ایف اور غیرملکی قرضوں پر انحصار اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک سودی سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوتا۔ زکوٰۃ، عُشر ا ور صدقات کو مؤثر بنانے سے نہ صرف ملکی خزانہ مستحکم ہو گا بلکہ بعض ظالمانہ ٹیکسز بھی نجات حاصل ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں سود کو ختم کر کے سکوک کا نظام متعارف کرایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا و سلامتی کا راستہ قرآن و سنت کے نظام کو اپنانے میں ہے۔
