پوری دنیا میں اس وقت دو ایسے ممالک ہیں جہاں مسلمانوں کے گھر مسمار کئے جا رہے ہیں ایک عرب ممالک کے قلب میں واقع ناجائز اسرائیل جو فلسطینی مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کر رہا ہے اور دوسرا ملک اس وقت بھارت ہے جو اسرائیل کی پالیسی پر کاربند ہوتے ہوئے وہاں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کر رہا ہے۔ بھارت کے غیور مسلمان اس وقت حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخانہ بیانات کے بعد سراپا احتجاج ہیں جس کو بنیاد بنا کر بھارتی حکومت ان کے گھر مسمار کر رہی ہے۔
ایک جانب بھارت اپنے آپ کو سیکولر ملک کہتا ہے تو دوسری جانب سیکو لر بھارت میں کسان احتجاج کر سکتے ہیں، گجر احتجاج کر سکتے ہیں، جاٹ احتجاج کر سکتے ہیں، دلت احتجاج کر سکتے ہیں ہر طبقہ احتجاج کر سکتا ہے، لیکن احتجاج نہیں کر سکتے تو مسلمان نہیں کر سکتے۔مودی حکومت نے کسانوں کے احتجاج پر تو کسی کسان کا گھر مسمار نہ کیا، گجروں کے احتجاج پر تو کسی کے گھر پر بلڈوزور نہ چلایا گیا، جاٹوں کے احتجاج پر کسی کو گھر سے بے گھر نہ کیا گیا، لیکن جیسے ہی مسلمان سراپا احتجاج ہوئے تو کہا گیا کہ یہ غیر قانونی گھروں میں مقیم تھے اس لئے ان کے گھر مسمار کئے جا رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی مباحثہ میں رسول پاک ﷺ کے بارے میں گستاخانہ گفتگو کی۔ یہ خبر عرب ممالک تک پہنچی تو متعدد مسلمان ممالک نے اس پر احتجاج کیا اور بھارت سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خلیجی ممالک سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم بھی شروع کی گئی۔ عرب مسلمان ممالک کا یہ احتجاج ایک دو روز خبروں میں رہا۔ حکومت نے نوپور شرما اور ایک دوسرے لیڈر کی پارٹی رکنیت معطل کر کے اس معاملہ سے اپنی بریت کا اعلان کر دیا۔ مزید اطمینان دلانے کے لئے نوپور شرما کے خلاف مقدمہ قائم کر کے تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا۔ اس کے بعد نہ عرب ممالک کے احتجاج کی کوئی خبر ملی اور نہ ہی بھارت کو پیش آنے والی کسی سفارتی یا معاشی پریشانی کی کوئی خبر سامنے آئی۔ حتی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس اہم وقوعہ پر کوئی بیان دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔
عرب ممالک نے بھی شاید اسی میں بہتری سمجھی کہ وہ بھی دنیا کی واحد ’سپر پاور‘ امریکہ کی طرح احتجاج پر بھارتی رد عمل کو خاطر خواہ سمجھ کر اس معاملہ کو فراموش کر دیں۔ کیوں کہ ان ممالک کے بھارت کے ساتھ جڑے مفادات شاید ان مفادات سے کہیں زیادہ گہرے اور ضروری ہیں جو عرب ممالک کو بھارتی صنعتی و زرعی مصنوعات کی برآمد کے علاوہ وہاں کام کرنے والے لاکھوں بھارتی باشندوں کے روز گار اور زرمبادلہ کی فراہمی کی صورت میں نئی دہلی کی پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہذا اس معاملہ پر کچھ احتجاج اور کچھ سفارتی کوششوں سے ’اتفاق رائے‘ پیدا کر لیا گیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ضرور شدید احتجاج بھی کیا، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے حکام سے رابطہ کر کے بھارت کو جوابدہ بنانے کی کوشش بھی کی لیکن بے سود۔
البتہ بھارت کے مسلمانوں میں توہین مذہب کے واقعات اور رسول پاکﷺ کے بارے میں حکمران جماعت کے گستاخانہ تبصروں کے سبب شدید بے چینی اور پریشانی پائی جاتی ہے۔ وہ بی جے پی کی متعصبانہ ہندو انتہاپسندانہ پالیسیوں کی بھاری قیمت بھی ادا کر رہے ہیں۔ ان میں تازہ ترین اضافہ احتجاج کرنے والے لوگوں کے گھر مسمار کرنے کی کارروائیوں کی صورت میں دیکھنے میں آیا ہے۔ نوپور شرما کے شرمناک اور دل آزاری پر مبنی بیان کے بعد گزشتہ دنوں مسلمانوں نے متعدد شہروں میں شدید احتجاج کیا۔ اس کا جواب دینے کے لئے اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور آسام میں درجنوں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ تمام قانون دان اس حکومتی اقدام کو غیر آئینی اور شہری آزادیوں پر حملہ قرار دے رہے ہیں لیکن کسی عدالت نے ابھی تک ایسے کسی عمل کے خلاف کوئی درخواست سماعت کے لئے منظور نہیں کی۔
ایک مسلمان مبصر عاصم علی نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ’گھر مسمار کرنے کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔ گھر گرانے کا عمل خاص طور پر سفاکانہ ہے کیونکہ گھر سلامتی کی علامت ہوتے ہیں۔ ایک گھر بنانے میں پوری زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اس اقدام سے ریاست ملک کی پوری مسلم سول سوسائٹی کو پیغام دے رہی ہے کہ آپ اپنے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے دباؤ ڈالنا بند کریں ورنہ آپ کے گھر اور کاروبار بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کر کے ریاست انہیں بتا رہی ہے کہ وہ تمیز میں رہیں یا انہیں سزا دینے کے لیے غیر آئینی طریقے آسانی سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ آئین یا عدلیہ انہیں نہیں بچائیں گے‘ ۔
مودی حکومت نےدرحقیقت اسرائیل کی پالیسی کو اپنا لیا ہے کہ مسلمانوں میں بے گھر ہونے کا خوف پھیلا دیا جائے پھر چاہے ان کو فسادات میں مارا پیٹا جائے، گائے کشی کے نام پر مسلمانوں کے گلے کاٹے جائیں،لو جہاد کے نام پر انہیں رسوا کیا جائے تاکہ ان کو اتنا ڈرایا دھمکایا جائے کہ یہ احتجاج نہ کر سکیں۔ لیکن مودی حکومت یہ نہیں جانتی کہ مسلمان کٹ سکتا ہے، مر سکتا ہے، بے گھر ہونا برداشت کر سکتا ہے، لیکن نبی ؐ کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔مودی حکومت جس طرح سے مسلمانوں کیخلاف فاشسٹ رویہ اپنائے ہوئے ہے اس پر تمام اسلامی ممالک کو یکجا ہو کر آواز بلند کرنا ہو گی اور مودی حکومت کو سخت جواب دینا ہو گا تا کہ بھارت میں مقیم کروڑوں مسلمان خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔
جمعتہ المبارک، 17 جون 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post بھارت میں مسلمانوں پر تنگ ہوتی زندگی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
