کراچی والوں نے پیر کی دوپہر سے کچھ سکھ کا سانس لیا. بارش کا خطرہ دن بھر منڈلاتا
رہا لیکن مزید برسات نہ ہوئی جس کی وجہ سے سیلاب کی صورت حال سے نجات ملنے
میں آسائی ہوئی.
شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی پانی کھڑا ہے. کلفٹن ڈیفنس ہو یا، ملیر کورنگی اور اورنگی
ٹاؤن، ملیر، نارتھ کراچی، لائنزایریا، نیوکراچی، آئی آئی چندریگر روڈ پانی اب بھی سندھ حکومت
اور ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب کا منہ چڑا رہا ہے. بارش کی وجہ سے 6 اموات ہو چکی ہیں.
حکومت نے محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد شہر میں بارش سے نمٹنے کے لیے انتظامات
کا دعوی تو بہت کیا تھا لیکن شہر کی موجودہ صورت حال پوری دنیا کے سامنے ہے.
کراچی میں برسات سب سے کم ہوتی ہے لیکن جب ہوتی ہے لوگ اللہ کی رحمت سے خوف زدہ
ہوجاتے ہیں. تمام تر صورت حال میں نینشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کوئی اتا پتا نہیں.
کراچی والوں مسائل ختم نہیں ہوئے بارش کا برسات کا ایک اور شدید اسپل تیار ہوگیا
حالانکہ این ڈی ایم اے کا بنیادی کام ہی ایسی تشویشناک صورت حال سے نمٹا ہوتا ہے.
تمام نام نہاد اداروں کی وجہ سے کراچی والوں کے لیے عید کا تہوار بارش کی تباہ کاریوں
کی نظر ہو گیا. بارش نہ ہونے کی وجہ سے عید کا تیسرا روز نسبتا بہتر گزرنے کی امید
ہے.
سندھ حکومت، ایڈمنسٹریٹر اور این ڈی ایم اے کے پاس اب بھی وقت ہے کہ چودہ تاریخ سے
18جولائی تک جو نئے اسپیل کی پیش گوئی کی گئی ہے اس سے پہلے حفاظتی انتظامات
کر لیے جائیں .
No related posts.
