عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی اتحادی حکومت
نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔
اگلے پندرہ دن کے لیے لیوی برقرار رکھی تو جارہی ہے لیکن ساتھ ہی خبریں پھیلائی جارہی ہیں
کہ آئی ایم ایف اس پر اعتراض اٹھا دے گا۔
حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات سے فوری طور پر اربوں روپے حاصل ہو جاتے ہیں اس لیے کوئی
بھی حکومت ہو وہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے ہزار بار سوچتی ہے۔
پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 17 جولائی کو ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں ایسے میں
ووٹرز کو لبھانے کے لیے حکومت قیمتوں میں کمی کا ہتھیار استعمال کرنا چاہتی ہے بالکل اسی
طرح جیسے سابق عمران خان کی حکومت نے اقتدار جانے کا یقین کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات
کی قیمتوں کو چار ماہ کے لیے منجمند کر دیا جس نے ملک کی معیشت پر انتہائی برا اثر ڈالا.
حکومتیں عموما اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بڑے بڑے قدم اٹھا لیا کرتی ہیں اور اس بار
شہباز شریف کے سامنے پنجاب میں صوبائی اسمبلیوں پر ضمنی انتخاب ہیں.
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کرکے ووٹرز کو پیغام بھی دینا ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے نہیں
ڈرتے اور اپنے عوام کے حق میں فیصلوں پر کوئی ڈکٹیشن نہیںلیں گے.
