کراچی: بھارت کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ گیا، جسے بین الاقوامی امور کے ماہرین کی جانب سے بھرپور انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنے پر پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ میں مستقل رکنیت سے متعلق مؤقف اختیار کیا کہ مستقل رکن کے لیے مدت مقرر کی جائے اور اس کا انتخاب 2 سال یا 5 سال بعد ہو۔ بھارت نے ہمیشہ سیکورٹی کونسل کی قرار دوں کی خلاف ورزی کی۔ یو این چارٹر میں بھارت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے، بھارتی گروپ کو اقوام متحدہ میں امریکا کی حمایت حاصل نہیں رہی۔ بھارت سیکولر اور کامیاب معیشت کے نام نہاد دعوے کے باوجود یواین کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
پاکستان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بھارت کو مستقل رکن بننے کے لیے 129ارکان کی حمایت درکار ہے، بھارت کے پاس نصف ارکان کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے ٹھوس مؤقف کو عرب لیگ اور افریقی یونین کی حمایت بھی حاصل رہی۔
