ترکی نے کہا ہے کہ ہم شہریوں کو ہدف بنانے والے ہر طرح کے حملے کے خلاف ہیں۔
ترکی وزارت خارجہ نے، عراق کے صوبہ دوہک کی تحصیل زاہو میں ایک نہر کے کنارے اور ابتدائی معلومات کے مطابق 8 شہریوں کی ہلاکت اور 23 کے زخمی ہونے کا سبب بننے والے حملے پر، مذمتی بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ” ہم، اس اندوہ ناک واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لئے اللہ رب العزت سے رحمت و مغفرت کے طلبگار ہیں۔ ہم ہلاک ہونے والوں کے عزیز و اقارب، دوست اور برادر عراقی عوام اور عراقی حکومت سے اظہارِ تعزیت کرتے اور زخمیوں کی فوری صحت یابی کے متمنّی ہیں”۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی شہریوں کو ہدف بنانے والے ہر حملے کے خلاف ہے اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو ،بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ شکل میں، شہری زندگی، شہری انفراسٹرکچر، تاریخی و ثقافتی اثاثوں اور فطرت کے تحفظ کے مقابل، نہایت حساسیت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ معصوم انسانوں کو ہدف بنانے والے اور دہشت گردوں کی طرف سے کئے گئے اس نوعیت کے حملوں کے ساتھ ہمارے ملک کے، دہشت گردی کے خلاف، برحق اور مصمّم موقف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ترکی حقیقت کو سامنے لانے کے لئے ہر طرح کے اقدام کے لئے تیار ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے، عراق کے صوبہ دوہک کی تحصیل زاہو میں شہریوں پر حملے کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ترک مسلح افواج سے موصول معلومات کے مطابق شہریوں پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا”۔
چاوش اولو نے ٹرکش ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن خبر چینل ‘ٹی آر ٹی خبر’ کے لائیو پروگرام میں شرکت کی اور موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ترکی نے کبھی بھی شہریوں کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا”۔
چاوش اولو نے کہا ہے کہ "ہم بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ شکل میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترک مسلح افواج سے موصول معلومات کے مطابق شہریوں پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ ہمارا ہدف ہمیشہ سے شام میں موجود دہشت گرد تنظیمیں رہی ہیں۔ عراق میں بھی آج تک ہمارا ہدف یہی دہشت گرد تنظیمیں رہی ہیں”۔
چاوش اولو نے کہا ہے کہ "ہمارے خیال میں یہ منفور حملہ دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے کیا گیا ہے اور اس بارے میں ہم نے عراقی حکومت کے ساتھ تعاون کا بھی اعلان کیا ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "میں یہاں سے ایک دفعہ پھر زور دینا چاہتا ہوں کہ، خواہ بااختیار شخصیات کی طرف سے ہو خواہ عوامی سطح پر، واقعے سے متعلق حقائق کو سامنے لائے بغیر ترکی پر لگائے جانے والے الزامات کی ہم بھر پور تردید کرتے ہیں”۔
دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے حملے کے دہشت گردوں کی طرف سے کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/KCK نے معصوم شہریوں کو ہدف بنایا ہے۔ ایک ایسے ماحول میں کہ علاقے کے عوام اپنے دیہاتوں کو کھیتوں اور باغ باغیچوں کو نہیں جاسکتے اس نوعیت کی خبریں توجہ ہٹانے اور تائثر تشکیل دینےکے زیرِ مقصدجانبدارانہ شکل میں شائع کی جا رہی ہیں۔ مذکورہ حملہ دہشت گردوں کی طرف سے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "میں یہاں سے ایک دفعہ پھر زور دینا چاہتا ہوں کہ، خواہ بااختیار شخصیات کی طرف سے ہو خواہ عوامی سطح پر، واقعے سے متعلق حقائق کو سامنے لائے بغیر ترکی پر لگائے جانے والے الزامات کی ہم بھر پور تردید کرتے ہیں”۔
