روس ۔ ترکی جنگ کے دوران ترکی کے سفارتی کردار نے فرانسیسی سیاست میں تناو کو شہہ دی ہے۔
اناج کے تنازع کو حل سے ہمکنار کرنے والے معاہدے پر استنبول میں دستخط کے بعد فرانسیسی سیاستدان گیلز لیبرٹن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "ترکی فرانس سے زیادہ طاقتور” ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پہلے روس اور پھر یوکرین گئے۔ انہوں نے ماسکو-کیف لائن پر 24 فروری کو جنگ میں تبدیل ہونے والی کشیدگی کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے ۔ تاہم، یہ کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
سفارتی میدان میں ناکامی کا سامنا کرنے والے ایمانوئل میکرون کو فرانسیسی سیاست دان تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔
ترکی کی اقدامات اور استنبول میں اناج کے بحران کو حل کرنے کے بعد میکرون کو سیاستدانوں نے آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے فرانسیسی رکن Gilles Lebreton نے میکرون کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اقوام متحدہ سے مذاکرات کرنے والے میکرون نہیں صدر رجب طیب ایردوان تھے، ترکی فرانس سے زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یوکیرین سے اناج کی با حفاظت ترسیل خطہ افریقہ میں قحط پڑھنے کا سد باب کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔
