English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 47

القمر

تہران  میں سر انجام پانے والے  ساتویں  آستانہ سربراہی اجلاس  نے  شام کے معاملے میں  ترکی، روس اور ایران  کو دوبارہ سے  یکجا کیا ہے تو طرفین  کے درمیان  شامی زمینی سالمیت ،  انسداد ِ دہشت گردی، سیاسی سلسلہ حل  اور ملک کی از سر نو نشاط کے معاملے میں قائم کردہ   مطابقت میں استحکام آنے کا مشاہدہ ہوا ہے۔ تا ہم ترکی، روس اور ایران کے مابین     میں  کسی  فوجی کاروائی کے  معاملے میں  مختلف نظریات   قائم ہیں۔

سیتا  خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر تجزیہ ۔۔۔۔

شام میں  جھڑپوں میں گراوٹ آنے کے بعد  فائر بندی اور سیاسی سلسلہ حل پر عمل پیرا ہونے کے لیے شروع کردہ  آستانہ سلسلہ ابتک  متعدد مطلوبہ اہداف  کو  پورا   کرنے سے  قاصر رہا ہے تو  بھی کم ازکم   اس نے  بعض  معاملات میں تناو میں گراوٹ لائی ہے، اور اس نے  شامی انتظامیہ اور مخالفین کے درمیان  بات چیت   کی زمین ہموار  کرتے ہوئے  مستقبل کے حوالے سے   چاہے کم سطح کی ہی کیوں نہ ہو امید کی کرن پیدا کی ہے۔ تاہم طویل مدت  تک   آستانہ ضامن ممالک ہونے کے باوجود  روس اور ایران  نے  اسد انتظامیہ  کی فوجی  حل تلاش کرنے کی کاروائیوں کی حمایت کو  جاری رکھا۔  خاصکر ادلیب  میں مخالف گروہوں کے خلاف وسیع پیمانے  کے فوجی حملے کرتے ہوئے  اس علاقے پر قبضہ جمانے کی کوششوں کو ترکی   نے  بہار ڈھال کاروائی  کرتے ہوئے روکا تھا۔  اب حالیہ ایام میں خاصکر  یوکیرین جنگ  سے منظر عام پر آنے والی  نئی   جیو پولیٹکل مساوات  نے شام میں طاقت کے توازن کو بھی بدلنا شروع کر دیا۔  روس نے  سست روی سے  ہی کیوں نہ ہو  شام سے اپنی فوجوں کا انخلا کرنا شروع دیا   ہے تو ترکی   کی  خطے میں قوت ِ مزاحمت میں نمایاں حد تک اضافے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔

اس تناظر میں صدر ایردوان   نے تل رفعت اور منبج  جیسے علاقوں میں عسکری کاروائی کی منصوبہ بندی کرنے کا اعلان  کیا ہے تو   اس کے آستانہ شراکت دار پوتن اور رئیسی  ترکی کے کسی ممکنہ   فوجی  آپریشن   کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے  کے درپے ہیں۔ تہران میں ہونے والے مذاکرات کا مرکزی ایجنڈہ  بھی اسی  موضوع پر مبنی  تھا۔  گو کہ ترکی،  روس اور ایران کے ساتھ کسی  تنازع اور کشیدگی کے ماحول میں  داخل نہیں ہونا چاہتا،  تا ہم  اس نے PKK کے خلاف  جنگ اور فوجی کاروائیوں پر اپنا اصرار اور پر عزم  موقف برقرار رکھا ہے۔ میری پشین  گوئی  ہے کہ  مختصر اور درمیانی مدت میں ایک نئی عسکری کاروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ صدر رجب طیب ایردوان  نے بھی   واضح کیا ہے کہ   ممکنہ  عسکری کاروائی پہلے مرحلے  میں  تل رفعت اور منبج   لائن پر ہو گی، لیکن PKK/ وائے پی جی    کا   وسیع پیمانے پر وجود موجود ہونے والے   دریائے فرات کے مشرقی   علاقوں کو  بھی  درمیانی  اور طویل   مدت میں ہدف بنایا جائیگا۔  ترکی کسی بھی شرط پر   اپنی جنوبی سرحدوں   پر دہشت گرد راہداری  کی تشکیل کی اجازت نہیں دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے