سندھ کے سکھر بیراج سے ملنے والی لاشوں نے سب کو حیران اور پریشان کردیا ہے۔ صرف چوبیس گھنٹے میں بارہ لاشوں کا ملنا بہت بڑا سوالیہ نشان بن گیا۔ پولیس نے کہا کہ سیلابی ریلوں کی وجہ سے مل کے بالائی علاقوں سے لاشیں بہہ کر سکھر بیراج میں پہنچی ہیں۔
خبروالے کی ٹیم نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا ان میں سے کئی لاشیں ہندوؤں کی دیوان کمیونیٹی سے تھیں۔
دیوان کمیونٹی میں بیشتر افراد اپنے مردوں کی لاشوں کو دریا پروان یا دریا کے سپرد کرتے ہیں۔
مزید معلوم کیا تو پتہ چلا اس برادری کے کچھ افراد اپنے مردے دفن اور بعض جلا دیتے ہیں۔
کچے کے علاقوں سے نقل مکانی کے دوران بھی کچھ لوگ ڈوب جایا کرتے ہیں۔ سکھر بیراج سے ملنی والی بعض لاشوں پر تشدد کے نشان بھی ملے ہیں ان سے متعلق شک ظاہر کیا جارہا ہے کہ انہیں کاری کیا گیا ہوگا۔
سکھر بیراج سے لاشیں ملتی رہتی ہیں لیکن اس مرتبہ ایک ساتھ کچھ زیادہ ہی مل گئیں تو ملکی منظر نامے پر شہ سرخیوں میں آگئی۔
سکھر بیراج میں ملنے والی لاشیں کن کی ہیں؟
القمر
