وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے 142 افراد جاں بحق ہوئے، صوبے میں سیلاب کی تباہ کاریاں ناقابلِ بیان ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے 15جون سے 30 جولائی تک کے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈیڑھ ماہ میں مختلف حادثات میں 85 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔سیلاب میں 28 افراد جبکہ مون سون بارشوں کے دوران 79 افراد زخمی ہوئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈیڑھ ماہ میں بارشوں اور سیلاب سے10ہزار 797 گھروں کو نقصان پہنچا۔حالیہ مون سون اور سیلاب میں 4لاکھ ایک ہزار970 ایکڑ رقبہ زیر آب آیا۔
ریکارڈ کے مطابق امدادی ٹیموں نے 2ہزار462 افراد کو سیلابی علاقوں سے بحفاظت نکالا۔فلڈ ریلیف کیمپس میں 7ہزار819 افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مون سون اور سیلاب میں 3ہزار 36 جانور بھی ہلاک ہوئے۔ امدادی کاروائیوں کے دوران 501 جانوروں کو سیلابی علاقوں سے ریسکیو کیا گیا۔
میانوالی اور ڈی جی خان ڈویژن میں 29 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ 176 گھرانوں کے 1ہزار 516 افراد فلڈ ریلیف کیمپس میں رہائش پذیر ہیں۔ریلیف کیمپس میں تمام افراد کو تین وقت کا کھانا،صاف پانی سمیت علاج معالجے کی سہولیات بدستور دی جارہی ہیں۔
اب تک 2ہزار617 گھرانوں میں ایک ماہ کے لیے خشک راشن کے تھیلے تقسیم کیے جا چکے ہیں ۔ 2ہزار 666 گھرانوں میں ٹینٹس تقسیم کیے گئے ہیں۔
متاثرین کے جانوروں کے لیے بھی6 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ریسکیو ریلیف آپریشن میں 61 کشتیاں اور 444 ریسکیورز نے حصہ لیا۔
اعظم شہباز شریف چمن میں سیلاب متاثرین اور عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دن رات مل کر متاثرین کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں، پانی میں پھنسے افراد کو نکالا گیا، متاثرین تک راشن پہنچایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت وفاقی و صوبائی حکومت اور ادارے امدادی کام کر رہے ہیں، وبائی امراض کی روک تھام کے لیے میڈیکل کیمپ لگائے جا رہے ہیں، ان اقدامات کے باوجود سب اچھا کہنا انصاف نہیں ہو گا، سب اچھا نہیں، خامیاں بھی ہیں، انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، کیمپ موجود ہیں مگر ان میں کھانے پینے کاسامان موجود نہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں سیلاب سے ہزاروں مکانات تباہ ہو گئے، کھڑی فصلوں کو بھی نقصان ہوا، بے شمار سڑکوں اور پلوں کو بھی نقصان پہنچا، پاک فوج اور نیوی کے ہیلی کاپٹر بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں، میں نوجوان وزیرِ اعلیٰ کو شاباش دیتا ہوں جنہوں نے فوری ایکشن لیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے سر پر دستِ شفقت رکھا جائے، وعدہ کرتا ہوں کہ معاوضے کی رقم بہت جلد متاثرین تک پہنچ جائے گی، امدادی رقوم اگلے چند دنوں میں آپ کے گھروں میں ہوں گی۔
