پاکستان تحریک انصاف اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان فیض آباد پر تصادم کا خدشہ پیدا
ہو گیا ہے. تحریک لبیک نے 13 اگست کو فیض آباد پر جلسہ کردیا ہے اور اپنے کارکنوں کو
فیض آباد پہنچنے کی کال بھی دیدی ہے۔

اس سے پہلے تحریک انصاف نے بھی 13اگست کی رات اسلام آباد جلسے کی کال دے رکھی ہے.
ٹی ایل پی ترجمان کا کہنا ہے کہ بیس دن پہلے درخواست کے باوجود ٹی ایل پی کو فیض آباد جلسہ
کی اجازت نہیں دی اور پی ٹی آئی کو اجازت دے دی گئی سب کو معلوم ہے یہ جماعت کن کی
بی ٹٰم ہے۔
سابق اینکر پرسن مبشر لقمان نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ “میں یقین سے کہہ
سکتا ہوں ، پنڈی میں ہونے والا تحریک لبیک کا جلسہ فقیدالمثال ہوگا۔ یہ عاشقان رسول جو ہیں ان کو
بارش یا موسمی شدت نہی ل روک سکتی۔ حافظ سعد رضوی نے ثابت کر دیا کہ نوجوان ہونے کے
ساتھ ساتھ انتہائی با شعور مدبر شخصیت کے حامل ہیں”۔
تحریک لبیک کے ایک صارف نے ٹوئیٹ کی ہے کہ “تحریک نے ایک ماہ پہلے پریڈ گرونڈ میں
کانفرنس کی اجازت مانگی تھی جس کو سیکیورٹی رسک بنا کر انکار کر دیا گیا تھا اور کچھ دن پہلے
کپی تان نے جلسے کا بولا اور اس کو اجازت دہ دی گئی آخر یہ دوہرا معیار منافقت کب تک؟”
