ملک کے سیاسی حالات غیرضروری طور پر کچھ زیادہ ہی گرم کر دیے گئے ہیں اس کے برخلاف
سوات کی صورت حال تشویش ناک حد تک تبدیل ہو رہی ہے. میڈٰیا اور سیاستدانوں کی نگاہوں سے
بالکل غائب ہے.
سینیر صحافی عقیل یوسف زئی نے ٹوئیٹ کی ہے کہ سوات اور دیر میں طالبان نے نہ صرف گشت
شروع بلکہ متعلقہ پولیس اہل کاروں، شہریوں اور دیگر بھی یرغمال بنالیے گئے لیکن قابل افسوس بات
یہ ہے کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر اس ساری صورت حال سے لاتعلق رہی.
یاد رہے کہ 2006 میں چپریال وادی ہی سے طالبانایزیش کا آغاز ہوا تھا اور پیوچار کیمپ بھی بھی
آج یہی صورت حال ہے. یہ علاقہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کا حلقہ بھی ہے.
ٹوئیٹر پر ایک اور صارف طارق افغان نے لکھا ہے “ویڈیوں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طالبان نے میجر
احسن سمیت دوسرے فوجیوں کے ہاتھ باندھ کر یرغمال بنایا ہے جبکہ DDP مٹہ سرکل پیر سید زخمی
حالت میں پڑا ہے۔ طالبان رہنما DSP سے پوچھ رہا ہے کہ آپ سے کسی نے ہمارے متعلق بات نہیں
کی ہے؟ تحریک انصاف حکومت طالبان کے سرگرمیوں پر خاموش کیوں ہے”
ڈاکٹر گل نے ویڈیو ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ “سوات کو ٹی ٹی پی کے خوارجیوں کے حوالے کرنے پر
دیر و سوات کی عوام سڑکوں پر نکل آئی”۔
ایسے میں تحریک انصاف کے سوات میں ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین نے مکمل
چب سادھ رکھی ہے۔ کسی بھی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آرہا جو کہ تشویش کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب سوات کے عوام نے سڑکوں پر آکے موجودہ صورت حال کے خلاف احتجاجی ریلی
بھی نکالی ہے. ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ سے سوات کو طالبان کے کنٹرول میں دینے کی سازش کی
جارہی ہے.
سوات کے شہری طالبان کی آبادکاری کے پیچھے کسی سازش کی بو سونگھ رہے ہیں اسی لیے سب
خاموش ہیں.
