کیا کوئی لڑکی اپنے والد کی شادی اپنی اسکول کی دوست سے کرانے کی کوشش کرسکتی ہے؟
کیا کوئی خاتون اپنے شوہر کی شادی اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے کرنے کے لئے ہر حد سے
گزر سکتی ہے؟
یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ لڑکیاں تو اپنی بچپن کی سہیلی کی ہر دکھ سکھ کی ساتھی ہوتی ہے۔ وہ
اپنی سہیلی کے ساتھ ایسا سفاک ظلم کیسے کرسکتی ہے؟
شادی شدہ عورت ہمیشہ اپنے شوہر کو دوسری خواتین پر توجہ دینے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش
کرتی ہیں ۔تو کیسے فیصل آباد کے صنعتکار کی بیوی نے اپنا ہی سہاگ اجاڑنے کی کوشش کی؟
فیصل آباد میں شادی سے انکار کرنے پر یونیورسٹی ٹاؤن کی رہائشی خدیجہ پر معروف صنعتکار کی
جانب سے مبینہ تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیکر ویڈیو بنا کر وائرل کردی گئی۔
شادی سے انکار کرنے پر صنعتکار اور اس کی بیٹی، بیوی سمیت 16 ملزمان نے خاتون کو تشدد کا
نشانہ بنا ڈالا جس پر تھانہ ویمن فیصل آباد کی جانب سے متاثرہ خاتون خدیجہ کی مدعیت میں 6 نامزد اور
10 نامعلوم ملزمان پر مقدمہ درج کیا گیا۔
سائلہ کا کہنا تھا کہ ملزم نے اس کے گھر رشتہ بھیجا جس پر سائلہ کی جانب سے انکار کردیا گیا، انکار
کرنے پر ملزم کی جانب سے اسے فون پر دھمکیاں دی گئیں، سائلہ اور اسکی بھابھی کو اغواء کرلیا گیا۔
واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او عمر سعید کے حکم پر شہر کے ملزم اور بیٹی سمیت 16 افراد
کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، مقدمہ یونیورسٹی ٹاؤن کی رہائشی لڑکی کی درخواست پر تھانہ ویمن
میں درج کیا گیا ہے-
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ میں 6 نامزد اور 10 نامعلوم ملزمان شامل ہیں، ملزمان کی تلاش کے لئے
چھاپے مار کر مرکزی ملزم سمیت 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ میرے سر کے بال اور بھنوئیں کاٹ ڈالیں جوتیاں چاٹنے پر مجبور کیا گیا،
ملزم دانش نے جنسی ہراساں بھی کیا وڈیوز بنائیں اور وائرل کردیں، ملزمان نے تمام واقعہ کی ویڈیو
بنا کر دھمکیاں دے کر چھوڑا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے، معاملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے صنعتکار اور اس کی بیوی کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔۔
یہ معاملہ کیا ہے؟
متاثرہ لڑکی اور ملزم کی بیٹی بچپن کے دوست ہیں اور اسکول بھی ساتھ پڑھے ہیں۔ دونوں کا ایک
دوسرے کے گھر آنا جانا بھی ہے۔ لڑکیاں جوان ہوئیں اور یونیورسٹی جانے لگیں اس دوران صنعتکار
نے متاثرہ لڑکی کا رشتہ کے لئے ہاتھ مانگا۔
لڑکی نے شادی سے انکار کیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور لڑکی نے ان کے گھر آنا جانا بند کردیا صنعتکار
کی بیٹی سے رابطہ بھی ختم کردیا۔ صنعتکار نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے لڑکی کو فون
کرنا شروع کیا اور دھمکیاں دیتا رہا۔
9اگست کو ملزم نے لڑکی کو اس کے بھائی کے سامنے اغوا کیا اور انسانیت سوز تشدد کیا۔
تشدد میں صنعتکار کی بیوی اور بیٹی بھی ملوث ہے۔
سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ صنعتکار نے اپنی بیٹی اور بیوی کو بھی بلیک میل کیا تھا یا دونوں
ان کی خوشی میں یہ جرم کربیٹھی ہیں؟
