تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا براہ راست خطاب ٹیلی وژن پہ دکھانے پر پیمرا
نے پابندی لگا دی ہے تاہم ساتھ ہی انہیں رعایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطاب کے بعد
ایڈیٹ کر کے خطاب دیکھایا جا سکتا ہے.
پیمرا کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر ہر سیاسی کارکن اپنے حساب سے ردعمل دینے میں
لگا ہوا ہے. ایک صارف کا کہنا ہے کہ عمران خان پاکستان کے سیاستدانوں میں سے واحد
رہنما ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پزیرائی ملتی ہے. اس پابندی کا ان کی صحت پر
کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا.
سینئر صحافی اور اینکر روف کلاسرا کہتے ہیں براہ راست خطاب پر پابندی لگوانے میں
عمران خان کو بہت زیادہ محنت کرنی پڑی ہے. دھمکی آمیز خطابوں کے بعد ایسا ہونا
بنتا ہی تھا.
عمران خان سے پہلے دو سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے خطاب پر بھی پابندی لگائی
گئی ہے ان میں سے ایک پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کے
خطاب پر پابندی تو عمران خان کے دور حکومت میں لگائی گئی. نواز شریف کی تو تصویر
تک نہیں دیکھائی جاسکتی تھی.
اسی طرحمتحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین پر تو انتہائی سخت پابندی لگائی گئی ان
کا نام بھی خبر میں لکھنا جرم بنادیا گیا. یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر الطاف حسین کے نام
سے ٹرینڈ چل رہا ہے.
صارفین کا کہنا ہے کہ چودہ اگست کو ایم کیو ایم لندن جشن آزادی کی ریلی نکالے تو اس کے
کارکنوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور عمران خان کھلے عام اداروں کو دھونس دھمکیاں دیتے
رہیں انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا. یہ کیسا دوہرا انصاف ہے پاکستان میں؟
عمران خان کے خطاب پر پابندی گزشتہ شب اسلام آباد کی انتظامیہ اور خاتون مجسٹریٹ کو
کھلے عام دھمکیاں دینے کے بعد لگائی گئی ہے.
صارفین کا کہنا ہے کہ ہم آخر پہلے اتنی چھوٹ دیتے ہی کیوں ہیں؟
ہم پہلے دودھ پیلا کے ان کی پرورش کرتے ہیں اور پھر جب وہ اپنے قد سے زیادہ چھلانگیں
لگانے لگتے ہیں تو ان کے پرکاٹنے کے لیے پابندیاں لگا دی جاتی ہیں.
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان پر پابندی لگانے کا مقصد ان کی مقبولیت میں مزید
اضافہ کرنا بھی ہو سکتا ہے.
اداروں کو بھی سوچنا پڑے گا کہ وہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ اس طرح کا کھیل کب
تک کھیلتے رہیں گے. لوگوں کو اپنے رہنما خود چننے دیں تو یہی پاکستان اور جمہوریت
کے لیے بہتر ہو گا.
