اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما منظور وسان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی۔
چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیپلزپارٹی کے رہنما منظور وسان کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت کی۔
عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ منظور وسان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ کاغذات نامزدگی جب بھی جمع ہوں تو اعتراضات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔ الیکشن ٹربیونل نے اقامہ ہولڈر ہونے پر منظور وسان کے کاغذات مسترد کیے تھے۔ وکیل خالد جاوید خان نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ بدنیتی پر اثاثے چھپانا ہی نااہلی کی وجہ بن سکتا ہے، منظور وسان نے اقامہ بدنیتی کی بنیاد پر نہیں چھپایا تھا۔
سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کی کہ پی پی رہنما منظور وسان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت، کاغذات نامزدگی جب بھی جمع ہوں اعتراضات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔منظوروسان نے پی ایس 27 کوٹ ڈی جی سے 2018 میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جسے ریٹرننگ آفیسر نے منظور کیا تھا جب کہ ان کے کاغذات نامزدگی کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا گیا تھا ۔ ٹربیونل نے پی پی رہنما کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔
