سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں متحدہ امریکہ کی درخواست پر بعض ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کی شراکت سے چوتھا اجلاس منعقد ہوا ہے۔
شام، اردن اور لبنان کے ساتھ تعلقات کے ذمہ دار امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ انڈر سکریٹری برائے مشرق ِ نزدیک امور ایتھن گولڈرچ کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر میں ہونے والے اجلاس میں 13 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شریک ممالک کے بیانات کے مطابق، قطر کی نمائندگی کرنے والے علاقائی امور کے نائب وزیر محمد بن عبدالعزیز اور جرمنی کے نمائندہ برائے شام اسٹیفن شنیک نے ایک ملاقات بھی سر انجام دی۔
قطر کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں نائب وزیر محمد نے 10 سال سے زائد عرصے سے جاری شامی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے پر عزم ہونے کا پیغام دیا۔
محمد نے اس سے قبل بیلجین دارالحکومت برسلز میں منعقدہ تیسرے اجلاس میں اہم اقدامات نہ اٹھائے جا سکنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شام کی خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول کروائی۔
جرمنی کے شام کے نمائندے شنیک نے بھی اس موقع پر کہا کہ شام کے مستقبل کے بارے میں بات کرنے پر متفق ہونے والے ممالک کے ساتھ ہم یہاں پر اکٹھے ہوئے ہیں ۔
شنیک نے اعلان کیا کہ وہ ملک میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے باوجود شام کے سیاسی حل کے لیے کوششیں کریں گے۔
اجلاس میں شریک ممالک کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں ہیں تو دیگر شریک ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا۔
