صحت کی عالمی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ پاکستان میں ملک گیر 888 طبی مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔
تنظیم نے اپنے تحریری اعلان میں کہا ہے کہ سیلاب سے ملک بھر میں اسپتالوں ، پولی کلینک اور ڈسپنسریوں پر مشتمل 888 طبی مراکز سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 180 مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ہسپتالوں اور کلینکوں کو نقصان پہنچنے کے بعد لاکھوں افراد صحت کی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ سیلاب نے اسہال، ڈینگی بخار، ملیریا، پولیو اور کورونا وائرس کی وبا ئیں مزید پھیل رہی ہیں۔ اور ان علاقوں میں وبائی امراض کا خطرہ زیادہ ہے جہاں پانی کی صفائی کے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرقی بحیرہ روم، ڈاکٹر احمد المندھاری کا کہنا ہے کہ اس سال سیلاب سے ہونے والا نقصان پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ خوفناک سطح پر ہے۔
مندھاری نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او نے سیلاب سے طبی سہولیات کو نقصان پہنچے والے علاقوں میں ہنگامی طور پر صحت کی خدمات جاری رکھنے کے لیے امدادی کاروائیاں شروع کر دی ہیں ۔
دریں اثنا پاکستان میں ماہرین صحت نے اندازہ لگایا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 50 لاکھ افراد آئندہ کے 4 تا 12 ہفتوں میں پانی سے پھیلنے والی وباوں کا شکار بن سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا ریاستوں میں، جہاں سیلاب مؤثر ہے، لوگ اسہال، ہیضہ، معدے اور آنتوں کی سوزش، ٹائیفائیڈ بخار جیسے امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔
