صدرِ فرانس امانوئل ماکرون نے روس کے ساتھ ڈائیلاگ کو جاری رکھے جانے کی ضرورت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کون چاہتا ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت کو جاری رکھنے والی دنیا کی واحد طاقت ترکیہ ہو؟”
ایمانوئل میکرون نے ایلیسا پیلس میں فرانسیسی سفیروں کے ساتھ ایک اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے 24 فروری کو یوکیرین پر حملے کے بعد قیام امن کے نام پر روس کے ساتھ بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
روسی حملوں کے آغاز کے بعد چند ایک بار روسی صدر ولا دیمر پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرنے والے میکرون نے اس عمل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت یہ سوال اٹھایا کہ "کون چاہے گا کہ روس کے ساتھ روابط اور بات چیت کرنے والی واحد علاقائی طاقت ترکیہ ہی رہے؟
عالمی طاقتوں کو "باہمی بات چیت کے ذریعے امن” قائم کرنے کے لیے کسی روڈ میپ کا تعین کرنے کے تقاضے کو پیش کرنے والے صدر ِ فرانس نے زور دیا کہ اس کے وقت کا تعین اور شرائط یوکیرین سے تعلق رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں ایک طویل جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے، کشیدگی کو مزید شہہ دینے سے اجتناب کرتے ہوئے امن کا ماحول قائم کرنے میں کوشاں رہنا چاہیے۔
