فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے کہا کہ ترکی اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اپنے خطے میں ایک فعال اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
کیتھرین کولونا نے ان خیالات کا اظہار آج ترکی کے دورے سے قبل فرانسیسی RTL ریڈیو کو ایک بیان دیتے ہوئے کیا۔
صحافی امنڈائن بیگوٹ کے یوکرین میں Zaporizhia نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ترکی اقوام متحدہ کی کوششوں کے مطابق خطے میں مثبت پیغامات بھیجےکیونکہ ترکی خطے میں ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے۔
کولونا نے بتایا کہ وہ ترکی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ آج دارالحکومت انقرہ اور وہاں سے استنبول چلے جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ "ترکی اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے خطے میں ایک فعال کردار ادا کررہا ہے اور ایسا کرنے کے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ہمارے لیے ایک مثبے پہلو کی حیثیت رکھتا ہے۔ کولونا نے یوکرائنی اناج کی برآمد کا حل تلاش کرنے کے لیے ترکی کی کوششوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس لحاظ سے ترکی کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
فرانسیسی صدر ایمونول میکرون کے ترکی کے بارے میں ان الفاظ کو یاد دلاتے ہوئے، "کون چاہتا ہے کہ وہ واحد طاقت ہو جو روس کے ساتھ بات چیت جاری رکھے”، فرانسیسی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ان الفاظ کا مطلب ہے "روس کو بند گلی میں نہیں دھکیل دیا جانا چاہیے۔
کیتھرین کولونا نے کہا کہ وہ "یہ کافی نہیں سمجھتی ہیں کہ روس ایک پڑوسی ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے اور اس کے ساتھ جنگ کرنے کا انتخاب کرکے تعطل میں پھنس گیا ہے”۔
روس کے خلاف پابندیاں زیادہ تر یورپی ممالک کو متاثر کررہی ہیں سے متعلق کولونا نے دعویٰ کیا کہ یہ پابندیاں زیادہ کارآمد ثابت ہوں گی کیونکہ روسی گیس پر انحصار بتدریج کم ہو رہا ہے۔
