اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس پر سماعت جاری ہے ، وزیراعظم شہبازشریف اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران کہا کہ وزیراعظم صاحب مسنگ پرسنز ایک بہت بڑا ایشو ہے، ریاست کا وہ ردعمل نہیں آ رہا جو ریاست کی ذمہ داری ہے، آئین پر عمل نہیں ہوتا تو سب کچھ پیک کر کے گھر جانا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بہت پیچیدہ صورتحال ہے، بدقسمتی سے ایک 9 سال چیف ایگزیکٹو رہنے والے نے فخریہ لکھا ہے کہ لوگوں کو اٹھا کر بیرون ملک بھیج دیتے ہیں، اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی پالیسی ہے، آپ نے کمیٹی تشکیل دی جس پر عدالت آپ کی مشکور ہے، لاپتہ افراد کے اہل خانہ جس تکلیف سے گزرتے ہیں اس کا کسی کو اندازہ نہیں، لاپتہ افراد احتجاج کرتے رہے لیکن وفاقی حکومت نے ان کی اواز نہ سنی،ہم لاپتہ افراد کے مسئلے کا حلا چاہتے ہیں اس لیے آج اپ کو تکلیف دی ، جب ہمارے سامنے کہا جاتا ہے کہ ہمیں نہیں پتہ کہ لاپتہ افراد کو کون اٹھا کر لے گیا۔
اس عدالت نے مناسب سمجھا کہ آپ کو بتایا جائے کہ مسئلہ کیا ہے ، لاپتہ افراد کے لیے کمیشن بنا، مگر اس کی پروسیسنگ بڑی ڈسٹربنگ ہے، لاپتہ افراد کمیشن کی سماعتوں سے ان خاندانوں کی دکھوں سے اضافہ ہوا، ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ ان میں سے کوئی اس عدالت نہ آتا، ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ خود ہر ایک کے گھر خود جاتے، یہاں پر لوگ بازیاب ہوئے مگر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میرے خیال میں اس سے بڑا کوئی بھی ایشو نہیں ہے ، بلوچ طلباء کے جو مسائل سامنے آرہے ہیں وہ بہت ڈسٹربنگ ہے، شہری ریاست سے غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، ایگزیکٹو کا کام ہے کہ شہریوں کی تحفظ یقینی بنائے، ٹارچر کا سب سے بڑا قسم ، لاپتہ افراد ہے، تمام ادارے وزرات داخلہ کے ماتحت ہیں ، جب مدثر نارو کا تین سالہ بچہ یہاں آتا ہے تو ہم اسے کیا جواب دیں کہ اس والد کہاں ہیں ؟
نیشنل سیکیورٹی کے تمام معاملات سولین چیف ایگزیکٹو کی طرف سے دیکھے جانے چاہئیں۔
فورسز کی جانب سے لوگوں کو اٹھائے جانے کا تاثر بھی ملک کیلئے نقصان دہ ہے، یہ آئینی عدالت ہے ریاست آ کر کہتی ہے کہ ہمیں نہیں پتہ شہری کہاں ہے، پھر اس عدالت کے پاس آئین کے تحت فیصلہ دینے کا آپشن موجود ہوتا ہے، یا تو آپکو کہنا پڑیگا کہ اس ملک میں آئین مکمل طور پر نافذ نہیں، اگر یہ بات ہے تو پھر یہ عدالت کسی اور سے پوچھے گی، پھر بھی ذمہ داری چیف ایگزیکٹو کی ہی ہوتی ہے، آپ اس وقت سیلابی صورتحال میں کام کر رہے ہیں، عدالت سراہتی ہے کہ آپ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے عدالت آئے ہیں۔
وزیراعظم نے عدالت میں کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ 20 سال پرانا ہے، ریاست کا سربراہ ہونے کے ناطے یہ میرا فرض ہے کہ میں پتہ کروں کہ مدثر نارو کہاں ہیں، میں آپ کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ میں اپنی ڈومین میں سب اقدامات اٹھا کر لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کی کوشش کرونگا، میں اس خالق کائنات اور اس کائنات کو اس معاملے پر جواب دہ ہوں۔میں یہاں کوئی Lame excuse دینے نہیں آیا، مدثر کے تین سالہ بیٹے سے ملا اس نے مجھے کہا کہ وزیراعظم میرے ابو کو مجھ سے ملا دیں، یہ سوال میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔
اب ضرورت ہے کہ آگے بڑھ کر اس کے والد کی تلاش کی جائے، اللہ جانتا ہے یہ کس نے کیا ہے لیکن اس کو تلاش کرنا میری ذمہ داری ہے، اللہ میرے گناہوں کو معاف کرے میں نے چاہتے ہوئے کبھی عفلت کا مظاہرہ نہیں کیا، میں لاپتہ افراد کی تکالیف اور دکھوں کو دیکھ سکتا ہوں، بالآخر مجھے جا کر اپنے رب کو بھی جواب دینا ہے، میں یہاں Blame game کھیلنے نہیں آیا، ہم نے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی ہے اور اسکی چھ میٹنگز ہو چکی ہیں۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ اپنی بساط میں اس معاملے کے حل کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑونگا، میں لاپتہ افراد کمیٹی کی خود سربراہی کرونگا اور رپورٹ عدالت میں پیش کرونگا، وہ رپورٹ کہانی نہیں ہو گی بلکہ حقائق پر مبنی ہو گی، گزشتہ چار سالوں میں مجھے دو بار جیل میں ڈالا گیا، میں یہاں اپنے متعلق بات نہیں کرونگا، میں بہت سادہ آدمی ہوں اور اللہ مجھے معاف کرے، میں نے بطور وزیر اعلی پنجاب اپنا خون پسینہ بہایا ہے، اگر اللہ نے چاہا تو اس ملک میں کوئی لاپتہ نہیں رہے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپکا وقت بہت قیمتی ہے ہم زیادہ وقت نہیں لیں گے، انہوں نے اٹارنی جنرل سے آئین کا آرٹیکل پڑھنے کا کہا۔
چیف جسٹس نے وزیراعظم سے کہا کہ جو کمیٹی آپ نے بنائی وہ کافی نہیں ہے، ہمارے پاس کیس ہے دو بھائیوں کو اسلام آباد سے پولیس یونیفارم میں لوگوں نے اٹھا لیا، یہ کوئی دور کی بات نہیں، انہیں وفاقی دارالحکومت سے اٹھایا گیا، ایک چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ لوگوں کو اٹھانا ریاست کی پالیسی تھی، اگر یہ ریاست کی پالیسی تھی تو یہ Subversion تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جس چیف ایگزیکٹو کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ملک کا ڈکٹیٹر تھا، میں اور میرا بھائی اس شخص کے متاثرین میں سے ہیں، اس چیف ایگزیکٹو کے دور میں ہمیں ملک بدری میں رہنا پڑا، یہ ملک اس شخص کی وجہ سے بہت متاثر ہوا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت سول۔ سپرمیسی کو یقینی بنائے گی ، اس ملک میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے، مسنگ پرسنز پر عدالت نے ایک کمیٹی بنائی تھی، سنجیدگی دیکھیں کہ انکی ایک میٹنگ نہیں ہوئی، وفاقی اور صوبائی چیف ایگزیکٹو کسی بھی شخص کے لاپتہ ہونے کا ذمہ دار ہے، ایک بھی شخص اگر لاپتہ ہوتا ہے تو چیف ایگزیکٹو براہ راست ذمہ دار ہے، یقینی بنائیں کہ کسی کو مسنگ نہ کیا جا سکے۔
یہ ریاست کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے، ایشوز ہونگے لیکن انکا حل پارلیمنٹ اور چیف ایگزیکٹو نے نے کرنا ہے، عدالت یقینی بنائے گی کہ سول سپریمیسی کی آئین کی منشاء پر عملدرآمد ہو، آئین کو نافذ کرنا ایگزیکٹو کی ذمہ داری ہے، اگر آئین کی منشاء پر عمل نہیں ہوتا تو سب کچھ پیک کر کے گھر جانا چاہیے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کمیشن سے متعلق جو باتیں کہیں وہ تکلیف دہ ہیں، معاملات کو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں ان پر قانون سازی کریں، بھارت نے یہی کیا دیگر ممالک نے بھی یہی کیا، لوگوں کو لاپتہ کرنا ناقابل برداشت ہے، عدالت پھر چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔
اس عدالت کے سامنے بلوچ طلبہ کی شکایات آتی ہیں ان کو نسلی امتیاز کا شکار بنایا جارہا ہے، بلوچ طلبہ پاکستان کا مستقبل ہیں وہ ریاست سے غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، اس وفاقی دارالحکومت سے ایک صحافی کو اٹھایا گیا سی سی ٹی وی کی فوٹیجز موجود ہیں انکوائری نہ ہوسکی، کچھ تلخ حقائق ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اب تو ہر تھانے میں ایسے ٹیمیں بن گئی ہیں جو لوگوں کو اٹھا لیتی ہیں۔
جس کے بعد مدثر نارو کی والدہ روسٹرم پر آگئیں، انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم کو بتانا چاہتی ہوں ہم سے جھوٹے وعدے کیے گئے، ہم اپنے بچپن میں افواج کی گاڑی دیکھ کر احتراماً روک جاتے تھے، میں چاہتی ہوں آنے والی نسلیں بھی اپنے سیکیورٹی اداروں کی ایسے ہی عزت کریں۔
لاپتہ افراد کیس،آئین پر عمل نہیں ہوتا تو سب کچھ پیک کرکے گھرجانا چاہئے
القمر
