کراچی:نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہدحسین نے کہا ہے کہ فوڈ امپورٹرز کو ڈالرز خریدنے کی اجازت نہ دینازیادتی ہے۔
یہ فیصلہ واپس لیا جائے تاکہ ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمت اور قلت میں مزید اضافہ نہ ہو۔ حکومت نے فوڈامپورٹرزکوبارٹرٹریڈ کی ہدایت کی ہے جس پرعمل درآمد مشکل ہے جبکہ روپے کے مسلسل زوال سے افغان برآمدکنندگان روپے میں تجارت نہیں کرناچاہتے اور ڈالرکوترجیح دے رہے ہیں۔
میاں زاہدحسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے ملک میں ٹماٹرپیازآلواور دیگرسبزیوں کی کمی واقع ہو گئی ہے جسے افغانستان اور ایران سے پوراکرنیکی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ بھارت سے درآمد کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جو حیران کن ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں سبزیوں کی کمی کے باوجود درآمدکنندگان کوبینکوں یا ایکسچینج کمپنیوں سے ڈالرخریدنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ اوپن مارکیٹ سے ڈالرحاصل کررہے ہیں جس سے ڈالرکی اوپن مارکیٹ میں قیمت بڑھ رہی ہے۔
میاں زاہدحسین نے مزید کہا کہ ڈالرروپے کا گلہ گھونٹ رہا ہے اوربعض عناصرسیاسی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈالراسمگل کررہے ہیں جس سے معیشت کی حالت کمزورہوتی جارہی ہے۔ ملک میں ڈالروں کی کمی کے باعث بعض بینک بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق بڑے پیمانے پرکریڈٹ کارڈز پر خریداری ہو رہی ہے جس کے باعث ڈالرز بڑی تعداد میں باہر جا رہے ہیں جبکہ بعض بینک غیردستاویزی منڈی سے ڈالر خرید رہے ہیں جن کے خلاف مرکزی بینک کو فوری کاروائی کی ضرورت ہے۔
ڈالرکی پرواز پر قابو پانے کیلئے مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے جس سے رہی سہی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی جبکہ بیروزگاری میں اضافہ اورمحاصل میں کمی آئے گی۔ عالمی سطح پر ڈالرنے یورواورین کودودہائیوں کی کمترین سطح تک دھکیل دیا ہے جبکہ برطانوی کرنسی کی قدر 30 سال کی کمترین سطح پرہے۔
