کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے بلوں میں کے ایم سی یوٹیلٹی ٹیکس کی وصولی اور جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر لوٹ مار کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ جماعت اسلامی کے تحت 24,23اور 25ستمبر کو شہر بھر میں اس حوالے سے ریفرنڈم کروایا جائے گا اور عوام سے رائے لی جائے گی کہ اگر سندھ حکومت اور کے ایم سی بجلی کے بلوں میں یوٹیلٹی چارجز ختم نہیں کرتی اور وفاق کی طرف سے فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر لوٹ مار اور دھوکہ دہی بند نہ کی گئی تو بجلی کے بل ادا کیے جائیں یا نہیں، عوام کا جو بھی فیصلہ ہو گا جماعت اسلامی اہل کراچی کے ساتھ کھڑی ہو گی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ اگر اسے سول نا فرمانی قرار دیا جائے گا تب بھی جماعت اسلامی عوام کے ساتھ مل اس صورتحال کا سامنا کرے گی۔ بجلی کے بلوں میں یوٹیلٹی ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ پر عائد ہو گی۔ہم نے عدالتوں میں بھی کے الیکٹرک کے خلاف آئینی درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں، امید ہے کہ عدالتوں سے عوام کو ریلیف ملے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے اختتام پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ریفرنڈم کے دوران گھر گھر ملاقاتیں اور سوشل میڈیاکے ذریعے بڑے پیمانے پر عوام سے رابط کریں گے، عوام کے حقوق کے لیے آئینی وقانونی، جمہوری اور سیاسی جدو جہد کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کی طرح کے الیکٹرک کی سہولت کار نہیں بلکہ عوام کواس کمپنی کی لوٹ مار سے نجات دلانے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی حکومت، نیپرا اور کے الیکٹرک کے شیطانی اتحاد کے خلاف اہل کراچی کی موثر اور توانا آواز ہے، ہم شہر میں انارکی نہیں پھیلانا چاہتے لیکن حکومت نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، گلی محلوں سے کچرا اُٹھاتے نہیں اور بجلی کے بلوں میں یوٹیلٹی چارجز لگا دیتے ہیں۔
