سویڈن میں 11 ستمبر کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد حکومت تشکیل دینے والی اعتدال پسند کنزرویٹو پارٹی کے رہنما الف کرسٹرسن نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسنز کے سیکرٹری آسکر سٹینسٹروم ترکیہ کے ساتھ نیٹو مذاکرات جاری رکھیں گے۔
سویڈش پارلیمنٹ کے اسپیکر اینڈریاس نورلن کی طرف سے حکومت تشکیل دینے کے لیے فرائض سونپے جانے والے کرسٹرسن نے ترکیہ اور نیٹو مذاکرات کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن SVT کی خبر کے مطابق کرسٹرسن نے کہا کہ ترکیہ کے ساتھ نیٹو کے مذاکرات سنجیدگی سے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسکر سٹینسٹروم، سابق وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسنز کے سیکرٹری، چیف مذاکرات کار کے طور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سویڈن میں الیکشن ہونے کی وجہ سے دنیا میں ہونے والی پیش رفت منجمند نہیں ہوئی ہے ۔ نیٹو کا مسئلہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ الیکشن سے پہلے تھا۔ یہ مذاکرات کے خاتمے تک اہم رہے گا۔ مجھَے آسکر سٹینسٹروم، اینڈرسنز کے سکریٹری پر پورا اعتماد ہے کہ وہ مذاکرات میں قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سہ فریقی یادداشت پر ترکی، فن لینڈ اور سویڈن نے 28 جون کو نیٹو میڈرڈ سربراہی اجلاس میں دستخط کیے تھے۔ یادداشت کے فریم ورک کے اندر قائم مستقل مشترکہ میکانزم کا پہلا اجلاس 26 اگست کو فن لینڈ کے شہر ونتا میں منعقد ہوا۔
