سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر احتساب عدالت اسلام آباد میں سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح نے دلائل کا آغاز کر دیا۔ احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل کر دیے۔
جج نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار بیمار تھے یا کوئی اور مسئلہ تھا؟ ملزم کے وکیل کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی وجوہات بیان کی جارہی ہیں۔
وکیل اسحاق ڈار نے استدعا کی کہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائیں۔ اسحاق ڈار ایئرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے۔
جج محمد بشیرنے استفسارکیا کہ پراسیکیوٹر افضل قریشی کہاں ہیں؟
نیب پراسیکوٹرنے جواب دیا کہ افضل قریشی عمرہ کی ادائیگی کیلئے گئے ہوئے ہیں۔
جج محمد بشیر نے کہا اسحاق ڈار کو پاکستان آنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔ احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو سرینڈر کرنے کا موقع دیدیا۔
جج محمد بشیر نے کہا اسحاق ڈار پاکستان واپس آ جائیں پھر وارنٹ منسوخی کو دیکھیں گے۔
اس طرح سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کی راہ کی رکاوٹ دور ہو گئی۔ احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری 7 اکتوبر تک معطل کر دیے۔
اسحاق ڈار لندن سے واپسی پر سیدھے عدالت جائیں گے
القمر
