English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مفتاح اسماعیل مستعفی، اسحاق ڈار نئے وزیر خزانہ نامزد

القمر

مفتاح اسمٰعیل نے لندن میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ساتھ اجلاس میں وزارت سے استعفیٰ دے دیا جبکہ اجلاس میں اسحٰق ڈار کو وزیر خزانہ نامزد کر دیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مفتاح اسمٰعیل نے ٹوئٹ کی کہ آج انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ساتھ اجلاس میں نے بطور وزیر خزانہ زبانی استعفیٰ دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان واپس پہنچنے کے بعد باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے دو بار وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پی ایم ایل (ن) کے ٹوئٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف کی زیرصدارت لندن میں اہم پارٹی اجلاس منعقد ہوا۔

مزید کہا گیا کہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی وقومی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پارٹی کے سربراہ نے مشکل معاشی صورتحال میں ذمہ داریاں نبھانے پر مفتاح اسماعیل کی کوششوں کو سراہا۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور پارٹی قائد نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا۔

سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار آئندہ ہفتے وزیر اعظم شہباز شریف کو اقتصادی محاذ پر معاونت فراہم کرنے کے لیے پاکستان واپس آرہے ہیں جہاں وہ ممکنہ طور پر وزارت خزانہ کا اہم قلمدان سنبھالیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم اور ان کے بھائی نواز شریف کے درمیان لندن میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا، اس سے قبل وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کی۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اسحٰق ڈار آئندہ ہفتے وزیر اعظم شہباز شریف کو معاشی امور میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ملک واپس آ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے واپسی پر وزیراعظم شہباز لندن میں ٹھہرے جہاں انہوں نے گزشتہ روز اپنے بھائی اور پارٹی سربراہ نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔

دونوں بھائیوں نے ایجویئر روڈ پر شہباز شریف کے فلیٹ پر گھنٹوں طویل ملاقات کی تھی جس میں سیاسی اور معاشی صورتحال کے ساتھ ساتھ اسحٰق ڈار کا وزارت خزانہ کا چارج سنبھالنے کے حوالے سے اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات میں اسحٰق ڈار بھی موجود تھے، میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ آئندہ ہفتے کے اوائل میں معاشی امور کا چارج سنبھال لیں گے جبکہ مفتاح اسمٰعیل بطور مشیر کابینہ میں رہیں گے جن کی وزارت خزانہ کی مدت 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر بات چیت میں اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ ’ہماری کل ایک اور ملاقات ہے، اس لیے میں مزید تفصیلات کل بتا سکتا ہوں‘۔

وزارت خزانہ کا چارج سنبھالنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے بہت سے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے لیکن میں فیصلوں کے حوالے سے کل ہی بتا سکتا ہوں، یہ کوئی رسمی نہیں بلکہ ایک خاندانی ملاقات تھی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ بدھ کو پاکستان جانے کے لیے روانہ ہوں گے۔

نواز شریف کے قریبی ذرائع نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ وہ کئی ماہ سے مفتاح اسمٰعیل کی اقتصادی پالیسیوں سے ناخوش ہیں اور اسحٰق ڈار کو ان کی جگہ لانے کے خواہشمند ہیں کیونکہ اہم اقتصادی فیصلوں پر تنازعات موجود ہیں۔

اگست میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر نواز شریف کے پارٹی اجلاس چھوڑ جانے کی خبروں نے اس تاثر کو تقویت دی کہ معاشی معاملات میں وہ اور مفتاح اسمٰعیل ایک صفحے پر نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ 28 جون کو وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا تھا کہ ان کی وزارت رہے یا نہیں اس سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں، اسحٰق ڈار معاشی ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ اگر آنا چاہتے ہیں تو خوشی سے آئیں۔

مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کے واپس آنے سے مجھے کوئی غم نہیں، معیشت سے متعلق تمام فیصلوں میں اسحٰق ڈار کی رائے بھی شامل ہوتی ہے، میری وزارت رہے یا نہ رہے اس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے