صدر رجب ایردوان کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یونان کے برخلاف اپنے وطن کے حقوق و مفادات کا اپنے تمام امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے دفاع کرنے سے ہم گز پیچھے نہیں رہیں گے۔
جناب ایردوان نے صدارتی کلیہ میں کابینہ اجلاس کے بعد قوم سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم یونان کے چپے چپے میں اشتعال انگیزی کی بُو آنے والی کاروائیوں کا بڑے افسوس کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ یونانی سیاستدانوں کو اشتعال دلاتے ہوئے ہمارے ملک کے خلاف کاروائیاں کروانے والے ایک عظیم اور طاقتور ترکیہ کی نشاط پروگرام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے درپے ہیں۔
یونان کو اگلی ایک چوتھائی صدی کو گروی میں لینے والی اور قیمت یقینی طور پر ادا کی جانے والی اقتصادی اور سیاسی سرگرمیاں ہمیں نہیں بلکہ حقیقی یونانی عوام کے لیے خطرہ تشکیل دیتی ہیں ۔ ترکی کے طور پر، ہم نے ماضی میں یہ فلم دیکھی تھی ، ہم نے اُس کتاب کو ٹھپ کرتے ہوئے اپنے لیے ایک نئے راستے کا انتخاب کیا تھا۔ اب ایک ہمسایہ کے طور پر یونان کو واضح طور پر اسی طرح کی تباہی میں گھسیٹے جانے پر ہمیں دلی افسوس ہے۔”
یونان کے چاروں گوشوں میں قبضہ نما غیر ملکی فوجیوں کی بھاری نفری کی تعیناتی سے دراصل ترک عوام کو نہیں یونانی عوام کو بے چینی محسوس کرنی چاہیے۔”نہ تو وہ فوجی سازوسامان اور نہ ہی وہ سیاسی اور معاشی حمایت یونان کو ہماری سطح پر لاسکتی ہے ، بلکہ یہ یونان کو دلدل میں گھسیٹنے کے لیے کافی ہیں۔
صدر نے مزید کہا کہ یہ یونانی سیاست دانوں، یونانی ریاست، یونانی عوام اور انہیں کٹھ پتلیوں کے طور پر استعمال کرنے والوں کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے۔
